میں عزیمتوں کا پہاڑ ہوں ، یہ ہجوم خانہ خراب ہے
میں عزیمتوں کا پہاڑ ہوں ، یہ ہجوم خانہ خراب ہے
مرے ہر قدم میں ہے اک جہد، مرا حوصلہ ہی حجاب ہے
میں ڈری نہیں میں جھکی نہیں میں رکی نہیں میں ڈٹی رہی
میرے سامنے وہ ہجوم تھے میں اکیلے میں بھی ہجوم تھی
یہ ہیں راونوں کے قبیل سے انہیں کیا غرض کسی رام سے
انہیں بیٹیوں سے ہے دشمنی انہیں چڑھ ہے سیتا کے نام سے
انہیں کیا خبر کہ میں کون ہوں، میں سمیہ ہوں میں ہوں عائشہ
میں ہوں فاطمہ تو حسین بھی ،جو نکل پڑوں تو ہوں کربلا
مرا عزم ہے مری منفعت ، مرا اسلحہ مرا دین ہے
مرا حوصلہ ہے متاع جاں ، مرا ظرف میرا یقین ہے

0 Comments