Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

خواجگانِ مہرولی دہلی کی انجم میں

 خواجگانِ مہرولی دہلی کی انجمن میں

مفتی تعریف سلیم ندوی

دبستانِ زندگی

      راقم سطور کا یہ سفر بے حد راحت و سکون پرور اور حیرت و مسرت سے معمور ہے، دہلی کی مستقل آمد کے باوجود آج تک ان مقابر و مراقد سے لاعلمی اور انقلابی شخصیات کی تاریخ کو صرف ورق گردانی میں محدود رکھا ہوا تھا

مہرولی دہلی کا تاریخی گاؤں ہے، یہاں صرف قطب مینار ہی نہیں بلکہ آثار و باقیات اور علامات و نشانات کا ایک جہاں آباد ہے، 

مسجد کلاں محل

میں اپنے رفیقِ سفر حسین بھائی کے ہمراہ مہرولی میں واقع کلاں محل مسجد بھائی نجم الدین (امام مسجد ہذا) کی دعوت پر ان کے ہاں عصر سے قبل حاضر ہوا، ظفر محل راستہ سے موسوم یہ گزرگاہ آگے گنجان گلیوں میں بدل جاتی ہے، بایں 

سبب ایک مقامی رہبر ناگزیر ہو جاتا ہے.

مسجد محل کلاں کا خارجی نظارہ
 

میزبانِ محترم بڑی عقیدت و محبت سے پیش آئے، مسجد میں ہی مدرسہ عربیہ نور الاسلام نام سے ایک تعلیمی کڑی قائم ہے، جس کے توسط سے تیس چالیس طلبہ دینی تعلیم پاتے ہیں. مسجد کے احاطہ میں چند قبریں موجود ہیں. 

مسجد محل کلاں کے احاطہ میں چند قبریں

مزار شیخ نور الدین سہروردی

یہ مزار مسجد کلاں محل کے بالکل سامنے مغربی جانب واقع ہے، شیخ الشیوخ نور الدین رح سہروردی سلسلہ کے نامور بزرگ رہیں ہیں، ان کے مزار کا کلش سنہرے رنگ سے چمک رہا تھا اس مزار کے احاطہ میں مزید دسیوں قبریں بھی اپنی اچھی حالت میں موجود تھی،

مزار شیخ نور الدین سہروردی

مسجد اولیاء

یہ تاریخی مسجد ہندوستان میں سلسلہء چشت کے اکابر شیوخ کی عظیم یادگار اور ہند کی قدیم ترین مساجد میں سے ایک ہے،اس کا بانی ملکِ ہند کے حقیقی روحانی فاتح خواجگانِ خواجہ شیخ معین الدین چشتی سنجری قدس سرہ ہیں ، خواجہ مرحوم 1191م میں دہلی تشریف لائے اور اسی سال ہندوستان میں مستحکم و مستقل اسلامی سلطنت کے مؤسس سلطان شہاب الدین غوری نے ہندوستان کے راجا پرتھوی راج چوہان سے تھانیسر (پانی پت) میں جنگ کی، جس میں راجا کے باؤن حلفاء کی فوج غالب آ گئی، پھر دوبارہ ایک سال میں ہی جب خواجہ بھی ملک کی راجدھانی اجمیر میں جا بسے اور یہ ایک عالی ہمت اور اولوالعزم مؤمن ہی کر سکتا ہے، راجا کی طرف سے نازیبا کلمات کے عوض شیخ چشتی نے کہلا بھیجا کہ ہم نے پرتھوی راج کو زندہ پکڑ کر محمد غوری کو دے دیا (تاریخ دعوت و عزیمت 24/2).

بس اگلے سال محمد غوری نے جرأت و بہادری اور ہمت و شجاعت سے اجمیر کے والی پرتھوی راج کو شکست فاش سے دو چار کر دیا ہے اور اس ملک کو اسلامی سلطنت کا گہوارہ بنا دیا، سلطان محمد غوری رح تین دن تک شیخ چشتی رح کی بارگاہ میں فیض پاتے اور ان کی اقتداء میں نماز پڑھتے رہے اور پھر دہلی واپس ہوئے جہاں انہوں نے شیخ چشتی کے اعظم خلیفہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی رح سے نیاز پایا اور اپنے خدا ترس ترکی غلام قطب الدین ایبک کو والی بنا اپنے وطن غزنی لوٹ گئے،

بہر کیف اس مسجد میں ایک مصلیٰ ہے، جہاں سلسلہ چشتیہ کے اکابر خواجہ معین الدین چشتی سنجری، فرید الدین مسعود گنج شکر اور خواجہ بختیار کاکی رحمہم اللہ کے نام کندہ ہیں، اس مقام پر شیخ فرید نے چلہ کھیچا اور دیگر بزرگ بھی عبادت میں مشغول رہے.

میں نے بھی ان بزرگوں کے نقوش پا پر دو رکعت نفل ادا کی.

مسجد کے موجودہ امام قاری ادریس صاحب اٹاوڑی سے ملاقات ہوئی،مدرسہ مفتاح العلوم جلال آباد کے سن 1961ء کے فارغ التحصيل ہیں، ساٹھ سال سے یہاں خدمت کر رہے ہیں، انہوں نے بتایا کہ یہاں مساجد و دیگر آثارِ قدیمہ ہی تھے، لیکن تقسیم کے وقت آنے والے مہاجرین قابض ہو گئے اور تمام مقامات کو گھیر کر کھر بنا لیا، جس میں مسجد تک آبادی کا سلسلہ رہا،مسجد اولیاء میں بھی ایک کنبہ چند سال آباد رہا، البتہ اب پچاس کے آس پاس مساجد آباد ہیں 

 مسجد اولیاء کا رحاب مختصر ہی ہے، 

حوضِ شمسی

اسی کی پیچھے حوضِ شمشی ہے، جس کو سلطان شمس الدین التمش رح نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی بشارت پر بنوایا تھا. (بحوالہ دلی کی مساجد /72 )

 اسی مسجد سے ایک زمینی راستہ ان بزرگوں کے کے لیے تعمیر کرایا جو حوض کے اندر بنی برج میں نکلتا ہے، اسی مسجد کے قریب ایک اور شاہی مسجد ہے جس کے احاطہ میں ہر سال پھولوں کی سیر (ایک قسم کا میلہ) کی ریت بادشاہی  دور سے چلی آ رہی ہے. 

جاری

محمد تعریف سلیم ندوی

Post a Comment

0 Comments