امت کی ترقی کے فارمولے پر فیلڈ ورک کا نبوی طریقہ
زندگی کے پہلے تحریکی سفر کی روداد
مفتی قیام الدین قاسمی سیتامڑھی
آئیڈیاز سوچنا مشکل تو ہوتا ہے پر اس سے کہیں زیادہ مشکل ہے اس کو پریکٹیکل شکل دینا اور زمینی حقیقت میں تبدیل کرنا، پندرہ نکاتی فارمولہ تیار تو ہوگیا (جسے ہم نے گزشتہ مضمون میں پیش کیا) لیکن اس پر عمل کی شکل کیا ہو؟ تو آئیے ذرا اس پر بات کرتے ہیں۔
فیلڈ ورک کی نوعیت
اس پروجیکٹ پر کام کرنے کے لیے دو قسم کی محنت کرنی ہے، نظریاتی محنت جس کے لیے بندہ نے مدرسے کے دورۂ حدیث کے طلبہ اور تکمیلات کے طلبہ کا انتخاب کیا ہے تاکہ انہیں سمجھا سکوں کہ معاشرے میں تبدیلی کیسے لائی جاسکتی ہے اور اس تبدیلی میں ہمارا کیا رول ہوگا، ان کا انتخاب اس لیے کیا کہ یہ لوگ جلد ہی عملی میدان میں اترنے والے ہیں اور یہ اصول ہے کہ اگر پچیس تیس سال کے بعد انقلاب لانا ہے تو بچوں پر محنت کرو اگر پانچ دس سال کے اندر انقلاب لانا ہے تو جوانوں پر محنت کرو اور اگر اپنا وقت ضائع کرنا ہے تو بوڑھوں پر محنت کرو، بوڑھوں پر محنت نہیں کی جاتی بس ان کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے ان سے دعائیں لی جاتی ہیں۔
دوسری ہے عملی محنت، جس کے لیے میں نے پالن پور گجرات کے کالیڑا گاؤں کو بطور نمونہ منتخب کیا ہے۔
فیلڈ ورک کا نبوی طریقہ
کچھ لوگ اپنی محنت کو لے کر اپنے میدانِ عمل کے ہر فرد کے پاس جاتے ہیں اور کچھ لوگ صرف بڑے ذمہ داروں کے پاس جاکر اپنی بات رکھنے کو کافی سمجھ بیٹھتے ہیں؛ مگر نبوی طریقہ یہ ہے کہ خصوصی لوگوں سے بھی ملاقات ہو اور عوامی طور پر بھی محنت ہو، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم گلیوں میں پھر کر بھی فیلڈ ورک کرتے تھے اور زعماء، نقباء اور سرداروں سے بھی ملاقاتیں کرتے تھے اور ان کے لیے دعائیں کیا کرتے تھے، ابوجہل یا عمر رض کا نام لے کر دعائیں کرنا اس کی واضح دلیل ہے، ہاں ترجیح کس کو دینی ہے تو دیکھیں اگر آپ وہاں کے باشندے ہیں یا علاقے والے آپ سے شناسا ہیں تو ہر فرد سے ملاقات کو ترجیح دیں اور اگر آپ اس علاقے کے لیے اجنبی ہیں تو پھر ذمہ دار حضرات سے ملاقات کو ترجیح دیں کیوں کہ عام آدمی ہم جیسے اجنبی کی بات بمشکل ہی سنے گا لیکن صرف عوام یا صرف ذمہ دار پر محنت نہ کریں۔
ذمہ داروں کی تعیین کیسے کریں؟
پہلے یا تو بادشاہ ہوتے تھے یا پھر قبیلوں کے سردار، یعنی ایک اچھے خاصے بڑے علاقے کی پاور کسی ایک شخص کے ہی ہاتھ میں ہوا کرتی تھی اس ایک آدمی پہ محنت کرلی تو وہ اپنے ماتحتوں کو بآسانی تحریک پر لاکھڑا کردیتا تھا، لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ وہ اکائیاں اب تبدیل ہوچکی ہیں اب نہ بادشاہ ہے نہ قبیلہ، اب ہر وہ شخص سردار اور ذمہ دار ہے جس کے پاس افرادی یا مالی قوت ہے، مثلاً امام و خطیب، مکتب کا ذمہ دار، مدرسے کا ذمہ دار، اسکول کالج کا ذمہ دار، ہاسپیٹل کا مالک، کسی بھی امدادی یا فلاحی تنظیم کا ذمہ دار، سب سے مال دار شخص، پالیٹیشین، سرپنچ وغیرہ وغیرہ ہم سب سے پہلے ان کی لسٹ بنالیں۔
غیبی امداد
جب آدمی محنت کرنے کی ٹھان لیتاغ ہے تو کچھ ایسی آسانیاں آپ کو حاصل ہوجاتی ہیں جو آپ نے سوچا بھی نہیں ہوتا، مثلاً میں نے کالیڑا پالن پور کو چنا نہیں تھا اپنے فیلڈ ورک کے لیے بلکہ ہوا یوں کہ ایک ہفتے پہلے مولوی نفیس اور مولوی اسامہ صاحبان سے بات ہوئی جو اس وقت کالیڑا کے ہی سلم العلوم مدرسے میں دورۂ حدیث میں زیر تعلیم ہیں، ان سے میں دو سال قبل مظلوموں کی آواز اٹھانے کی خاطر ٹویٹر کے صحیح و مفید استعمال کی ٹریننگ دیتے وقت متعارف ہوا تھا، انہوں نے مجھے واٹس ایپ کیا کہ آپ یہاں ہمارے علاقے میں پڑھارہے ہیں اور ہمیں خبر بھی نہیں، خیر ہم ملاقات کی کوئی ترتیب بناتے ہیں، وہ لوگ آنے والے تھے میرے پاس لیکن میں نے سوچا کیوں نہ وہیں چلا جاؤں تاکہ فیلڈ ورک کی کوئی پلاننگ کرسکوں، اور یوں بس دوستوں کی ملاقات کو اللہ نے میرے لیے فیلڈ ورک کا ذریعہ بنالیا، دوسری غیبی مدد یہ ہوئی کہ مولوی نفیس سلمہ اس مدرسے کے شیخ الحدیث صاحب کے پوتے نکلے جس سے مجھے اپنے فیلڈ ورک میں بڑی آسانی ملی، تیسری مدد یہ ہوئی کہ جن تین اہم لوگوں سے ملاقات ہوئی وہ لوگ پہلے سے قوم کے تئیں فکرمند تھے اور اپنے اندر دردمند دل رکھتے تھے اور اپنی بساط بھر امت مسلمہ کی ترقی کے لیے کوشاں بھی تھے۔
خیر جمعرات کو دوپہر چھٹی کے بعد کالیڑا اور سیندھنی کے اپنے تین شاگرد علما مولوی معوذ، مولوی منذر اور مولوی احمد شیرا کے ساتھ رخت سفر باندھا، کالیڑا پہنچ کر ان دونوں احباب کی مدد سے وہاں کے ذمہ داروں کی لسٹ بنائی اور ملاقات شروع کردی
بات کرنے کی پلاننگ
بات کیا اور کیسے کرنی ہے یہ تو سامنے والے کے مزاج، علم، فکر اور سرگرمی کے لحاظ سے بدلتی رہتی ہے؛ البتہ کچھ کامن پوائنٹس ہیں جو میں نے تیار کئے تھے وہ اولا تو تھے کچھ سوالات:
1: آپ خود کو سماج میں کس جگہ پر دیکھتے ہیں؟ تاکہ ان کی خود شناسی کا جائزہ لیا جاسکے کہ یہ بندہ اگرچہ گاؤں کا ذمہ دار ہے مگر خود اپنے کو ذمہ دار سمجھتا بھی ہے یا نہیں، کیوں کہ جو شخص خود کو ذمہ دار نہیں سمجھتا وہ کبھی بھی اپنی فیملی کے علاوہ کسی کی بھلائی کے لیے کبھی نہیں سوچے گا
2 آپ اپنی زندگی کی تین تمنائیں بتائیں جسے پورا کرنے کے لیے آپ کوشش کررہے ہوں؟ اس سے انسان کی ذہنیت اور سرگرمی کا پتہ لگایا جاسکتا ہے
3 آپ سماج میں کیا کیا مسائل کیا کیا خرابیاں ہیں؟ اور آپ نے اصلاح کے لیے کیا پلاننگ کی ہے اور کیا عمل کیا ہے؟ اس سے ان کی تجزیاتی قوت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے
ان تین سوالوں سے آپ کو مخاطب کے احوال و کوائف سے بڑی حدتک واقفیت حاصل ہوسکتی ہے
ثانیاً ان ذمہ داروں کو عملی طور پر بھی گاؤں میں گھوم کر کچھ دکھانے کی پلاننگ کی تھی مگر چوں کہ عملی طور پر میں فی الحال کر نہیں پایا اس لیے اس پر ان شاءاللہ اگلی کسی روداد میں بات کروں گا
ملاقاتیں
ویسے تو مکتب اور پرائمری کے صدر مدرس صاحب، مدرسے کے چند اساتذہ، دورۂ حدیث کے چند طلباء اور گاؤں کے کچھ لوگوں سے بھی ملاقات ہوئی مگر بس رسمی ملاقات و تعارف ہی ہوپایا، البتہ مغرب کے بعد مولوی نفیس مولوی اسامہ کے ساتھ مولانا وحید صاحب کی رہنمائی پر ہم حفیظ بھائی سے ملنے گئے
حفیظ بھائی کالیڑا کے اسکول اور ہاسپیٹل دونوں کے ذمہ دار ہیں، سابق سرپنچ ہیں، قوم کو عصری تعلیم سے آراستہ کرنے کے تئیں اپنی ایک منفرد سوچ رکھتے ہیں اور ان کے مطابق یہ اس علاقے کے پہلے شخص ہیں جنہوں نے دینی تعلیم اور عصری تعلیم کے تقریباً آٹھ سو ذمہ دار حضرات کو جمع کرکے ایک کانفرنس کی اور دونوں طرف کے لوگوں کو ایک ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے ایک چھت کے نیچے جمع کیا، ورنہ یہاں عموماً عصری تعلیم کے حصول سے بے اعتنائی اور دوری میں ہی عافیت سمجھی جاتی ہے، ان سے تقریباً ڈیڑھ دو گھنٹے مسلسل گفت و شنید رہی، پہلے تو اپنا تعارف کرایا پھر یونیک (جہاں میں مدرس ہوں) کا تعارف کرایا، اپنا پروجیکٹ پیش کیا، ان کے خدشات و تحفظات پر غور و خوض ہوا اور استدراکات و خامیوں پر مناقشہ ہوا،
حفیظ بھائی کا نقطۂ نظر عصری و دینی تعلیم کے حوالے سے
حفیظ بھائی کا ماننا ہے کہ مدرسے میں پڑھتے ہوئے دسویں بارہویں کرواکے سرٹیفیکیٹ دلوانا نا صرف بے فائدہ ہے بلکہ ایک قسم کا فراڈ ہے، اس کے لیے ان کے ذہن میں یہ خاکہ ہے کہ طالب علم یا تو حفظ کے ساتھ ساتھ آٹھویں تک پڑھائی کرے گا، یا اگر حفظ نہیں کررہا ہے تو پھر آٹھویں تک نحو و صرف کی تعلیم دو گھنٹوں میں حاصل کرے گا
پھر اس کے بعد آٹھویں کلاس سے لے کر بارہویں کلاس تک وہ صرف اسکول میں تعلیم حاصل کرے گا جس میں تلاوت قرآن کے لیے آدھا گھنٹہ مقرر کیا جائے اب بارہویں کے بعد وہ اپنی صلاحیت اور دلچسپی کے حساب سے مدرسے میں تعلیم حاصل کرنے چلا جائے یا پھر اسکول میں تعلیم حاصل کرلے۔
دوسری ملاقات
دوسری اہم ملاقات شیخ الحدیث مولانا حبیب اللہ صاحب سے ہوئی، جمعرات کو تو بس رسمی سی ملاقات رہی البتہ جمعہ کے دن باضابطہ اس پروجیکٹ کو لے کر ان سے تقریباً ایک ڈیڑھ گھنٹہ بات چیت ہوئی، حضرت انچاس سال سے اس مدرسے میں پڑھارہے ہیں، پورے گاؤں والوں کے نزدیک محبوب و محترم ہیں اور گاؤں میں جہاں بھی آپسی نزاع ہوتے ہیں تو تصفیہ کے لیے حضرت کو مدعو کیا جاتا ہے، درمیان میں انہوں نے مولانا غلام رسول خاموش رحمہ اللہ کی بنائی ہوئی اصلاح معاشرہ تنظیم کی خوبیوں اور کارناموں سے بھی واقف کرایا، اور میرے پروجیکٹ پر بڑی خوشی کا بھی اظہار فرمایا اور ہر قسم کے تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔
تیسری ملاقات
تیسری ملاقات میرے شاگرد مولوی معوذ کے والد صاحب سے ہوئی جن کا شمار علاقے کے متمول حضرات میں ہوتا ہے، ان سے محض پندرہ بیس منٹ کی گفت و شنید ہوئی مگر ان کے اندر بھی چنگاری پہلے سے جل رہی تھی، جب میں نے مختصراً اپنا پروجیکٹ پیش کیا تو بے حد خوش ہوئے اور کہنے لگے کہ میں خود ایک کراٹے چیمپئن ہوں جب جوان تھا تو اپنے پیسے خرچ کرکے اسکاؤٹ ٹریننگ دلواتا تھا گاؤں والو کو مگر کچھ دنوں بعد سب نے دھیان دینا چھوڑ دیا، اور یہ بھی کہا ہمارے پاس پیسے ہیں لیکن کوئی یہ نہیں بتاتا کہ کیسے ان پیسوں کو قوم کی ترقی کے لیے صحیح طور پر خرچ کیا جاسکتا ہے، کوئی پروجیکٹ لے کر آئے تو ہم لٹانے کے لیے تیار ہیں، اللہ ان کے جذبے کو قبول فرمائے اور ملت کی خدمت کے لیے قبول فرمائے آمین۔
چوتھی ملاقات
عشاء کی نماز کے بعد مہتمم صاحب سے ملاقات ہوئی تعارف ہوا، میں نے درخواست کی کہ میں دورۂ حدیث کے ساتھیوں سے بات کرنا چاہتا ہوں، تو انہوں نے کہا آپ تحریر مجھے بھیج دیں میں ان شاءاللہ مشورہ کرکے آپ کو مطلع کرتا ہوں، امید ہے کہ شاید مشورے کے بعد اس ہفتے اجازت مل جائے۔
بہرحال اس پہلے تحریکی سفر میں چند چیزیں سامنے آئیں:
1 پروجیکٹر کی ضرورت: لیپ ٹاپ تو تھا پر اگر ساتھ میں پروجیکٹر ہوتا تو شاید میں اپنی بات مزید واضح انداز میں رکھ پاتا، اللہ سے دعا ہے کہ وہ کسی مخیر کو اس کام کے لیے تیار فرمادے۔
2 لوگ تبدیلی کے لیے بے چین ہیں، قوم کے تئیں فکرمند بھی ہیں بس کوئی انہیں صحیح ڈگر صحیح پلاننگ بتانے والا نہیں ہے۔
3 یہ بات میرے لیے بڑی حوصلہ افزا رہی کہ شہر کے تین بڑے ذمہ داروں کو اس پروجیکٹ کی ضرورت و اہمیت کا قائل کرنے میں کامیاب ہوگیا اب اگلے ہفتے سے ان شاءاللہ سروے شروع کریں گے۔
3 اکثر فیلڈ میں لوگ کام کررہے ہیں بس ضرورت ہے کہ ایک ہولیسٹک اپروچ (مجموعی ترقی کی سوچ) کے ساتھ یہ لوگ کولابوریشن کے ذریعے ایک مرکزی نقطے پر جمع ہوجائیں اور پورے گاؤں کی دینی و دنیوی ترقی کا ایک سالڈ پلان تیار کریں اور پھر سب لوگ اپنے اپنے حصے کی ذمہ داری ادا کرنے میں لگ جائیں، مگر اس احساس کے ساتھ کہ قوم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک میرے فیلڈ کے ساتھ ساتھ دوسرے میدانوں میں بھی برابر ترقی نہ کرے۔
اے ہندوستان کے نوجوان علما! اٹھیں اور اپنی بساط کے بقدر ایک علاقے کو گود لیں وہاں کا جائزہ لے کر "و اعدوا لھم ما استطعتم من قوۃ" کے تحت اس علاقے کی ترقی کے لیے ہر طاقت کے حصول اور دشمنوں سے دفاع کا پلان تیار کریں اور پھر وہاں کے ذمہ داروں کے سامنے پیش کریں، قوم پیاسی ہے آپ کی منتظر ہے، میں جانتا ہوں کہ وسائل نہیں ہوں گے آپ کے پاس لیکن اتنا کام کرنے کے لیے وسائل کی ضرورت نہیں ہوتی بس تجزیے پر قادر ایک عدد دماغ، قوم کی خدمت کا ایک چھٹانک جذبہ اور مافی الضمیر کو صحیح انداز میں ادا کرنے والی ایک عدد میٹھی زبان چاہئے ہوتی ہے، آپ اتنا کریں اور پھر اللہ کے سامنے وسائل کی فراہمی کی دعا کریں وسائل آپ کے پاس کھنچے چلے آئیں گے۔
یاد رکھیں جب تک ہم اس قوم کی دینی و دنیوی ترقی اور دینی و دنیوی مفاسد کے دفعیے کے ضامن نہیں بن جاتے، جب تک ہم ملت کے ہر فرد کو حتیٰ کہ ریڑھی چلانے والے کو بھی یہ باور نہیں کرادیتے کہ وہ قوم کا خادم بن سکتا ہے، جب تک ہم ہر فرد میں اجتماعیت کا احساس پیدا کرکے اس کو یہ پلاننگ نہیں دیتے کہ وہ کس طرح ملت کے کام آسکتا ہے تب تک چین سے بیٹھنا ایک وارث نبی کو گوارا نہیں دیتا؛ کیوں کہ "ان اللہ اشتری من المومنین انفسھم و اموالھم بان لھم الجنہ"۔
معاشرے سے متعلق لکھے گئے مضامین کی یہ تیسری کڑی ہے، پہلے مضمون میں ہم نے بات کی کہ معاشرہ علماء کے کنٹرول سے کیوں نکل گیا، دوسرے مضمون میں معاشرے میں تبدیلی لانے کا ایک روڈ میپ تیار کیا اور اس مضمون میں اس پر فیلڈ ورک پر مختصر روشنی ڈالی ہے
الحمدللہ میری معلومات کے مطابق یہ مضمون ہندوستان کے سولہ اخبارات میں شائع ہوچکا ہے
جاری۔۔۔۔
qiyam308@gmail.com

0 Comments