Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

آج ممتاز محقق محترم محمد شمس الحق کی 102ویں سال گرہ ہے۔

آج ممتاز محقق محترم محمد شمس الحق کی 102ویں سال گرہ ہے۔

 آج ممتاز محقق محترم محمد شمس الحق اپنی 102 ویں سال گرہ منا رہے ہیں۔ اس موقع پر ہم انھیں اور ان کے خاندان کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔

محمد شمس الحق یکم مارچ 1920ء کو غیرمنقسم ہندستان کے قصبہ گروار ضلع بلیا(یوپی) میں پیدا ہوئے۔ وہ قیام_پاکستان کے بعد دیگر سرکاری ملازمین کے ساتھ کراچی، پاکستان آ گئے۔ بعد ازاں وفاقی دارالحکومت کی اسلام آباد منقتلی کے بعد وہ وفاقی وزارت_صحت، اسلام آباد میں سیکشن افسر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دینے کے بعد 1980ء میں ریٹائر ہوئے۔ ان کی مستقل رہائش کراچی میں ہے۔

محمد شمس الحق صاحب کو نوجوانی ہی سے شعروادب سے والہانہ عشق تھا۔ جس کے نتیجے میں قدیم و جدید شعرا کے عمدہ اشعار جمع ہوتے چلے گئے۔ حتا کہ ایسے  منتخب اشعار پر مشتمل ان کی کئی کتابیں ترتیب پاکر شائع ہوچکی ہیں۔ جن سے اب تک بے شمار لوگ استفادہ کرچکے ہیں۔ 

گذشتہ سال ان کی خود نوشت سوانح عمری بھی شائع ہوچکی ہے۔ جس کا ایک نسخہ انھوں نے ازراہ_تلطف مجھے بھی مرحمت فرمایا تھا۔ اس عنایت کے لیے میں ان کا ممنون ہوں۔ درحقیقت باہمی محبت کا یہ غیر مرئی رشتہ

رفیق احمد نقش مرحوم کی معجزاتی شخصیت کی بدولت استوار ہوا۔ جن کے عظیم الشان کتب خانے سے استفادے کے لیے شمس الحق صاحب اکثر تشریف لاتے تھے۔

  

ان کی مطبوعہ کتب کی تفصیل درج_ذیل ہے

 

۔ گل ہائے رنگ رنگ (حصہ اول،دوم،سوم)

۔ پیمانہءغزل ( حصہ اول، دوم، سوم)

۔ غزل اس نے چھیڑی ( حصہ اول، دوم)

۔ اردو کے ضرب المثل اشعار، تحقیق کی روشنی میں

۔ دل چسپ (تاریخی و ادبی لطائف کا انتخاب

۔ آو پھر گزرے ہوئے ایام کی باتیں کریں (آپ بیتی)

    محمد شمس الحق صاحب کو شعروادب کے ساتھ باغ بانی،  فنون_لطیفہ اور  مختلف کھیلوں سے بھی بہت لگاو ہے۔ وہ سادہ غذا کھاتے ہیں اور سادگی ہی ان کی زندگی کا شعار ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وہ پیرانہ سالی کے باوجود صحت مند اور فعال زندگی گزار رہے ہیں۔

 اللہ انھیں تادیر سلامت رکھے۔ 


تحریر و تلاش : بشیر عنوان

Post a Comment

0 Comments