امام الہند
مولانا ابوالکلام آزاد کا مختصر خاکہ
از: آغاشورش کاشمیری
"قدطویل نہ قلیل، متوسط القامت، اکہرا بدن، نازک الجثہ، سرخ و سپید رنگ، بڑی بڑی آنکھیں، متحرک اور روشن، آخری عمرمیں رنگ دارعینک کے شیشے ان کاغلاف تھے، اس طرح پیشانی کی شکنوں اور آنکھوں کی لہروں سے پتا چلانا مشکل تھاکہ ان کے ذہنی پس منظرمیں کیاہے؟ چہرہ کتابی، ڈاڑھی کچی، آوازمیں جمال وجلال، عجم کے حسنِ طبیعت اور عرب کے سوزِ دروں کی تصویر، طبیعت باغ و بہار، فطرت کم آمیز، مزاج میں سطوت، عوام سے بے نیاز، ان سے ملنا جوے شیرلانے سے کم نہ تھا، اس حدتک خلوت پسند تھے کہ تنہا آئے اورتنہاچلے گئے، فقرو استغناکے پیکراورصبرِ جمیل کامجسمہ، کئی کئی دن مہمان شرفِ ملاقات سے.محروم رہتے، گفتگوکے بادشاہ، علم کے بحرِ ناپیداکنار، خطابت کے شہسوار، قلم کے ایسے دھنی کہ بہ قول رشید احمد صدیقی الفاظ کو ربوبیت ونبوت کاجامہ پہنادیتے اور دماغ سوچنے کی بجاے پوجنے کی طرف چلاجاتا، اردوزبان کے سب سے بڑے خطیب (Orator) لیکن مجمعوں سے نفور، سفرکے دلدادہ، سیاست دانوں میں عبقری، حافظہ بے پناہ، کتابوں کے دوست، مطالعے کے مجنوں، قرنِ اول کے شہہ دماغ مسلمانوں کی تصویر، عیب بینی اورعیب چینی سے متنفر، قرآن کے مفسر، کلام اللہ پربقول حسن نظامی اتناعبور کہ مصروشام کے علماے جدید بھی اس گہرائی وگیرائی تک پہنچنے سے معذور، آزادی کی جدجہدکے سالار، گم شدہ اسلاف کی یادگار، مستقبل کے نباض، چال میں طنطنہ، ڈھال میں ہمہمہ، بولتے توپھول جھڑتے، مطالب کے فرش پر الفاظ کا رقص، چاروں طرف سحرچھاجاتا، وجدان جھومنے لگتے، سماعت موتی رولتی، اٹھارہ سوستاون کی خوں خواری کے بعد انیس سو دس میں اسلام کی پہلی آواز، جس نے مسلمانوں کی پلکوں سے نیندیں اتاریں اوران کے کانوں کاجھومر بن گئیں، ان کے دلوں کا نگینہ اوردماغوں کا سفینہ ہوگئی ـ
لیکن یہ بھی واقعہ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کی دوعظیم ہستیوں میں ایک اقبال تھا، جوبے بصر عقیدت کی بھینٹ ہوگیا، دوسرا ابوالکلام تھا، جو حصولِ آزادی کے آخری ایام میں مسلمانوں کی غضب ناک نفرت کا شکاررہا، ہندوستان کے مسلمانوں نے اپنی ہر زبان میں اس کو گالی دی، وہ اردوزبان کاسب سے بڑا ادیب، سب سے بڑا خطیب اور سب سے بڑا سیاست داں تھا؛لیکن ڈاکٹرذاکرحسین کے الفاظ میں اردوزبان کی ایسی کوئی گالی نہ تھی، جومسلمانوں نے اپنے اس سب سے بڑے محسن کونہ دی ہو، وہ گالیاں کھاتارہا اور دعا دیتا رہا۔ "
(ابوالکلام آزاد: سوانح و افکار، ص: 38-39)

0 Comments