Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

مادر جات مفتیان (3) زرک میر

 مادر جات مفتیان (3) 

 زرک میر

 اس میں حیرانگی کی کیا بات ہے جب کسی کوٹھے میں کوئی شنو یا شبنم قرآن کی تلاوت کرے یا کوئی مولوی اپنے مدرسے میں کسی سے اپنی مشت زنی کرائے ، کوٹھہ اور مدرسہ میں فرق صرف "آگے" اور "پیچھے" کا ہی ہے بس ۔ مادر جات 

 ۔ زندگی امتحان ہے ، مرد کے بچے کو بھی مفتی بننا تھا جو ہر خواہش پوری کرتا رہا ، مفتی بھی تو ایسے ہی پل صراطوں سے پاس ہوکر مفتی بنا ہوگا ۔ مادر جات

 ۔ سچ ہے کہ سب سے زیادہ خدا کے ایسے نہ ہونے کا یقین مفتی کو ہوتا ہے جس طرح سے وہ خدا کو پیش کرتا ہے ، تب ہی وہ زیر کتاب زیر ناف زیر زبر اور پیش میں غلطاں پیچاں رہا ۔   مادر جات 

 ۔ پس ثابت ہوا کہ دیگر میدانوں کی طرح مدرسوں  میں بھی آگے بڑھنے کیلئے دو قدم "پیچھے" اوپر "نیچے" درمیان  اور "آگے پیچھے" ہونا ہوتا ہے ، مادر جات 

 ۔ ملالہ کی شادی کی بجائے دوستی والی بات پر ٹھٹھا اڑانے والوں کے خود  زیر کتاب مقدس اوراق کے سائے تلے ٹھٹھے اٹھتے گئے ۔ مادر جات

۔ کیا "نشہ" میں کیا گیا فعل تانگہ چلانے کی ممانعت عورت کی کوٹھے پر دھندہ کرنے کی "مجبوری" سے کہیں زیادہ قبیع فعل نہیں ؟  ۔ مادر جات

۔ مفتی نے بہ وزن بینگن کے مصداق بہ وزن طالب یورپی پورن اسٹائل اپنا کر آداب مباشرت میں اہم باب کا اضافہ فرمایا ۔ مادر جات

 فحش نگاری کیا ہوتی ہے اس کی تو آج تک تعریف نہ ہوسکی لیکن مدارس میں زیر کتاب زیر ناف جو کچھ ہوتا رہا ہے اس کو عدالت اب کیا نام دیتی ہے ، ہم دیکھیں گے ہم دیکھیں گے ، مادر جات

 ۔ منٹو نے کہا تھا کہ جب تک اس دنیا میں عورت شراب اور پھول موجود ہیں انسان ضرور بہکیں گے اور بہکا ہوا انسان عورت شراب اور پھول سے  زیادہ خوبصورت ہوتا ہے  ۔ منٹو صاحب سے معذرت کیساتھ اس میں ایک لفظ کے اضافے کی شدت سے ضرورت محسوس ہورہی ہے اور وہ ہے لونڈا ۔ مادر جات

(تصویر کا مندرجات سے کوئی سروکار نہیں )

Post a Comment

0 Comments