غزل
غزل
دیکھی ہے رنگ و نور کی دنیا خدا گواہ
دیکھا نہ پر حسیں کوئی تجھ سا خدا گواہ
اک تو اگر جہاں سے نہ ڈرتا خدا گواہ
تیرے لیے جہان سے لڑتا خدا گواہ
جبکہ ہے خود پسند تو جان جاں،،،اور میں
تیرا ہی اک جہاں میں ہوں شیدا خدا گواہ
دل کو لگا کے تجھ سے ملی بے دلی ہمیں
جیتے جی تو نے مار ہی ڈالا خدا گواہ
اچھے بھلے تھے،،کوئی ہمیں جانتا نہ تھا
ہم کو کِیا ہے عشق نے رسوا خدا گواہ
یہ بات اور اس کے مراسم کسی سے تھے
پر میں نے اس کو ٹوٹ کے چاہا خدا گواہ
تیرے ہی دم سے گلشنِ ہستی ہے مشک بار
تو ہے مری چنبیلی و چمپا خدا گواہ
جتنا حسیں ہے اتنا نہ ہوتا تو ماہ رو
تجھ سے اگر میں عشق نہ کرتا خدا گواہ
پہلو میں تو ہے پھر بھی جو کھویا ہوا ہوں میں
تو ہی ہے میری یاد میں واللہ خدا گواہ
مجھ کو گلے سے اپنے لگاتا نسیمٓ گر
تجھ سے میں دل کا حال بھی کہتا خدا گواہ

0 Comments