مولانا عتیق الرَّحْمٰن سنبھلی
نُقوش وتأثّرات
از: مولانا مفتی عتیق احمد بستوی، استاذ دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ.
طویل علالت کے بعد، حضرت مولانا عتیق الرَّحْمٰن سنبھلی مؤرّخہ ۲۲/جنوری ٢٠٢٢ء کو اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ انّا للّٰهِ وانّا الیه راجعون ۔
زمانۂ طالب علمی میں جب سے ماہنامہ’’ الفرقان لکھنؤ‘‘ سے تعارف ہوا اور اس ماہنامہ کو پابندی کے ساتھ پڑھنے کی عادت بنی، حضرت مولانا عتیق الرَّحْمٰن سنبھلی کے مضامین اور تحریری افادات ماہنامہ’’ الفرقان لکھنؤ‘‘ میں نظر سے گزرتے رہے اور مولانا مرحوم کی شخصیت، ان کے طرزِ نگارش نیز افکار ونظریات سے طبیعت متأثّر ہوتی رہی۔ ۱٩٨٠ میں دار العلوم ندوۃ العلماء آنے سے پہلے ہی سے میرے مضامین ماہنامہ ’’الفرقان‘‘ میں شائع ہونے لگے تھے اور حضرت مولانا عتیق الرَّحْمٰن سنبھلی ؒ کسی حد تک مجھ سے غائبانہ واقف ہوچکے تھے۔ مولانا موصوف ایک مدت سے لندن منتقل ہوگئے تھے اور برطانیہ کی شہریت اختیار کر لی تھی لیکن تقریباً ان کی ہر سال ہندوستان آمد ہوا کرتی تھی اور حضرت مولانا محمد منظور نعمانی ؒ کی حیات میں ان کا زیادہ تر قیام لکھنؤ میں اپنے والد صاحب کے پاس ہوا کرتا تھا۔ لکھنؤ کے زمانۂ قیام میں وہ متعدّد بار دار العلوم ندوۃ العلماء تشریف لایا کرتے تھے، حضرت مولانا علی میاں ؒ کی خدمت میں، اور ان کی وفات کے بعد حضرت مولانا محمد رابع صاحب ناظم ندوۃ العلماء کے پاس آیا کرتے تھے۔ ندوہ تشریف لانے پر کبھی کبھی میرے غریب خانہ کو عزّت بخشتے تھے۔ میں عمر میں ان سے بہت چھوٹا تھا، اس کے باوُجود وہ بڑا اِکرام فرمایا کرتے تھے اور بڑی اپنائیت سے پیش آتے، میری تحریروں کی ہمت افزائی فرماتے اور بعض دفعہ بڑے اچھے مشورے دیتے۔
۱۹۹٧ سے جب میرا برطانیہ کا سفر شروع ہوا، میں کوشش کرتا کہ لندن میں ان کے دولت کدہ پر حاضر ہوں اور ان سے استِفادہ کروں اور ان کی خُرد نوازی اور مَحَبّت کا عالَم یہ تھا کہ جب انہیں میرے لندن پہونچنے کی اطّلاع ملتی تو میری قیام گاہ پر آنے کی زحمت فرماتے اور بسا اوقات کئی کئی گھنٹے ان کی صحبت میں گزرتے اور ان کی باتیں جو گہرے مطالعہ اور تجربات کا نچوڑ ہوتی تھیں، ان سے استِفادہ کا موقع ملتا تھا۔ میرے پہلے سفرِ برطانیہ کے موقع پر خاص طور سے انہوں نے بڑا اہتمام فرمایا۔ کئی بار ان سے ملاقاتیں ہوئیں، انہوں نے میرے لیے اور اہل و عِیال کے لیے قیمتی ہدیے دیے۔ میں نے برطانیہ کے پہلے سفر نامۂ برطانیہ میں(جو اب تک شائع نہ ہوا)، ان کے بارے میں مختصراً اپنے جو تأثّرات قلم بند کیے ہیں، ان شاء اللہ اسے اس مضمون کے اخیر میں درج کیا جائے گا۔
حضرت مولانا عتیق الرَّحْمٰن سنبھلی ؒ زود نویس نہیں تھے۔ اللہ نے ان کو جو طویل عمر عطا فرمائی، اس کے اعتبار سے ان کی کتابیں اور تحریریں کم ہی ہیں لیکن وہ جو کچھ تحریر فرماتے تھے، طویل غور وفکر، گہرے مطالعہ اور وسیع تجربات کا خُلاصہ ہوتا تھا۔ ہر لفظ بہت ناپ تول کر لکھتے تھے۔ ان کا ہر جملہ اور فقرہ بہت مُحکم ہوتا تھا اور ان کی تحریریں لفّاظی، عبارت آرائی سے پاک ہوتی تھیں۔ ان کا اُسلوبِ نگارش شُستہ اور سادہ اور بڑا عقلی اور منطقی ہے۔ حضرت مولانا محمد عارف سنبھلی مرحوم سابق استاذ دار العلوم ندوۃ العلماء نے مجھ سے بیان فرمایا کہ بھائی عتیق صاحب نے مجھ سے بیان فرمایا کہ ایک بار میں نے مشہور ادیب جناب رشید احمد صِدّیقی سے عرض کیا کہ مجھے مضمون لکھنے میں بہت دقّت ہوتی ہے۔ بار بار اپنی عبارت کاٹنی پڑتی ہے، تب کہیں جاکر مجھے اطمینان ہوتا ہے۔ رشید احمد صدیقی صاحب نے پوچھا کہ عام طور پر کتنی بار آپ ردّ و بدل کرتے ہیں؟ میں نے عرض کیا پانچ چھ بار۔ رشید صاحب نے فرمایا کہ ما شاء اللہ آپ جلدی مطمئن ہو جاتے ہیں، مجھے تو دس بارہ بار اپنی تحریر میں کاٹ پیٹ کرنی پڑتی ہے تب کچھ اطمینان ہوتا ہے ۔
حضرت مولانا عتیق الرَّحْمٰن سنبھلی رح کا سب سے آخری تصنیفی کام بلکہ تصنیفی کارنامہ ان کی تفسیر محفل قرآن ہے۔ کاش یہ تفسیر مکمل ہوجاتی تو عصرِ حاضر کی ایک بڑی ضرورت پوری ہوتی۔ مولانا موصوف نے اس تفسیر میں قرآن کریم کے مشکل مقامات کو حل کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے، اور دور حاضر میں مضامینِ قرآن پر جو اِشکالات کیے جاتے ہیں انہیں دور کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے۔ عام قارئین ہی کے لیے نہیں بلکہ تفسیرِ قرآن سے دل چسپی رکھنے والے علماء اور اہل دانش کے لیے بھی یہ تفسیر بہترین سرمایہ ہے۔ اس کی ایک مثال ’’محفل قرآن‘‘ جلد سوم میں غزوۂ بدر کے بارے میں مختلف نقطہ ہائے نظر رکھنے والے مفسّرین کے دلائل کا جو تجزیہ پیش کیا ہے وہ انہیں کا حصہ ہے۔ اس موضوع پر اس سے اچھی بحث میں نے نہیں پڑھی۔
حضرت مولانا عتیق الرَّحْمٰن سنبھلی اس نسل کے ایک فرد تھے جو تقریباً اس دنیاسے رخصت ہوچکی ہے۔ ناظم ندوۃ العلماء حضرت مولانا سید محمد رابع صاحب دامت برکاتہم عمر میں ان سے قریب قریب ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کے دوست ساتھی اور قدرداں رہے ہیں، وہی ان کے بارے میں کچھ تفصیل سے لکھ سکتے ہیں۔ ’’ماہنامہ الفرقان‘‘ اور ادارہ الفرقان کی ذمہ داری ہے کہ’’ الفرقان‘‘ کی فائلوں سے حضرت مولانا عتیق الرَّحْمٰن سنبھلی کے مضامین کو جمع کر کے موضوعات کے اعتبار سے مرتّب کرے اور انہیں کتابی شکل دے۔ ان شاء اللہ اس سے علم اور دین کی بڑی خدمت ہو گی اور نئی نسل حضرت مولانا عتیق الرَّحْمٰن سنبھلی کے افکار وخیالات سے استفادہ کر سکے گی۔
اللہ تعالیٰ مولانا عتیق مرحوم کو کروٹ کروٹ جنّت نصیب فرمائے، پسماندگان کو صبرِ جمیل کی توفیق دے اور ان کی اولاد و احفاد کو ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔
اس تحریر کو ہم پہلے سفرِ برطانیہ کے روداد کے ایک اقتباس پر ختم کرتے ہیں جس میں مولانا عتیق الرَّحْمٰن صاحب ؒ کا تذکرہ ہے۔
۱۴/جون کو صبح مولانا عتیق الرَّحْمٰن سنبھلی صاحب کے یہاں ناشتہ کی دعوت تھی۔ ساڑھے نو بجے ان کے دعوت کدہ پر حاضری ہوئی، مولانا موصوف نے ناشتہ میں کافی اہتمام کررکھا تھا۔ ان کے ایک صاحب زادے ہمارے شاگرد ہیں، لندن میں رہتے ہیں، وہ بھی آئے تھے، ان سے بھی ملاقات ہوئی۔ ناشتہ کے بعد مولانا مجھے لندن کی کچھ خاص چیزیں دکھانے نکلے۔ لندن میں ہر محلہ اور ٹاؤن میں لائبریریاں ہیں، ان کا بہت ہی اچھا نظام ہے۔ کئی لائبریریوں میں مجھ کو لے کر گئے اور لائبریریوں کے نظام سے مجھ کو متعارف کرایا۔ مولانا نے فرمایا کہ انگریز قوم نے علم کو بہت اہمیت دی اور علم پر بہت توجّہ کی، اسی کا ایک حصہ یہ لائبریریاں ہیں۔ تقریباً ہر محلّہ میں اچھی اور بڑی لائبریر یاں ہیں جوکافی وقت تک کُھلتی ہیں اور یہاں سے آپ کتاب ایشو بھی کرا سکتے ہیں۔ موضوعات کےاعتبار سے لائبریریاں مرتّب ہیں، بڑی سہولت اور بہت تھوڑے وقت میں مطلوبہ کتاب فراہم ہو جاتی ہے۔ اور ہر چند محلّوں کو ملا کر ایک ایسی لائبریری ہوتی ہے جو چوبیس گھنٹے کھلی رہتی ہے تاکہ آپ کسی وقت بھی مطالعہ کرنا چاہیں یا آپ کے ذہن میں کوئی خاص موضوع گردش کر رہا ہو اور وقت بے وقت مطالعہ کرنے کا تقاضا ہو تو آپ مایوس نہ ہوں بلکہ اس لائبریری میں چلے جائیں جو چوبیس گھنٹے کھلتی ہے۔
مولانا سنبھلی نے برطانیہ کے تعلیمی نظام پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ اس قوم نے عِلم کو ہوا اور پانی کی طرح عام کر دیا ہے کہ آپ جب اور جہاں چاہیں، علم حاصل کر سکیں۔تقریباً ساڑھے بارہ بجے تک، مولانا عتیق الرَّحْمٰن سنبھلی صاحب کے ساتھ رہے اور ان کی فکر انگیز باتوں سے مستفید ہوتے رہے۔حضرت مولانا عتیق الرَّحْمٰن سنبھلی دامت برکاتہم حضرت مولانا محمد منظور نعمانی کے سب سے بڑے صاحب زادے ہیں۔ ستّر سال سے متجاوز ہو چکے ہیں۔ اب بھی بحمد للہ بقیدِ حیات ہیں۔ دارالعلوم دیوبند کے مایۂ ناز فضلاء میں سے ہیں۔ حضرت مولانا منظور نعمانی صاحب نے ’’ماہنامہ الفرقان‘‘ کی ادارت ان کے حوالہ کردی تھی۔ ایک زمانہ تک انہوں نے ماہنامہ’’ الفرقان‘‘ کی ذمّہ داری سنبھالی۔ ماہ نامہ ’’ الفرقان‘‘ کافی بلندیوں تک پہونچ گیا اور ہند و پاک کے معیاری مجلّات میں اس کا شمار ہونے لگا۔ مولانا عتیق الرَّحْمٰن سنبھلی کا مخصوص طرز نگارش ہے، اس میں سادگی اور پُرکاری کے ساتھ معقولیت اور منطقیت کا حسین امتزاج ہے۔ مولانا سنبھلی کی کوئی بھی تحریر سرسری اور سطحی نہیں ہوتی، بہت غور وفکر کر کے اور موضوع میں ڈوب کر لکھتے ہیں۔ اس لیے ان کی تحریروں کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ جوانی ہی کے زمانہ سے ان کی طبیعت خراب ہونے لگی، اَعصاب کافی متأثّر ہو گئے اور ڈاکٹروں نے یہ رائے دی کہ لکھنؤ کے گرم موسم میں ان کی صحّت ٹھیک نہیں رہ سکتی تو حضرت مولانا محمد منظور نعمانی صاحب کے مشورہ سے اور برطانیہ کے بعض احباب کے تقاضے پر یہ طے پایا کہ حضرت مولانا عتیق الرَّحْمٰن سنبھلی صاحب لندن آ جائیں اور لندن میں قیام کر کے اپنے علمی کاموں کو جاری رکھیں۔ اس سلسلہ میں حضرت مولانا یعقوب اسماعیل قاسمی صاحب نے بھی بہت دل چسپی کا مظاہرہ کیا اور تمام قانونی کارروائیاں کر کے مولانا سنبھلی کو لندن بُلا لیا۔ کافی زمانہ تک موصوف کا قیام لندن میں رہا لیکن ادھر چند سال سے مولانا کافی بیمار ہو گئے اور ان کی مکمل نگہداشت کی ضرورت محسوس کی گئی تو گھر کے لوگوں کے اصرار پر اب وہ زیادہ تر ہندوستان میں رہتے ہیں۔ قیام دہلی میں ان کے بڑ ے صاحب زادے کے یہاں رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی عمر و صحت میں برکت دے اور ان کے نامکمل کاموں کو مکمل کرا دے۔
حضرت مولانا عتیق الرَّحْمٰن سنبھلی کی زیادہ تحریریں ’’ الفرقان‘‘ میں مضامین کی شکل میں شائع ہوئیں۔ انھیں اگر مرتّب کیا جائے تو کئی جلدیں ہو سکتی ہیں۔ مولانا کا اسلوبِ نگارش بہت سی خصوصیات کا حا مل ہے۔ اس دورِ عقلیت اور دور سائنس کے لیے مولانا کا تحریر ی اُسلوب بہت موزوں اور مناسب ہے۔ جو بھی لکھتے ہیں، علم و تحقیق کے ترازو پر تول کر لکھتے ہیں۔ ان کے یہاں لفّاظی بالکل بھی نہیں ہے۔ ہر لفظ اور عبارت کے عواقب و اثرات خوب سوچ سمجھ کر اسے سپرد قلم کرتے ہیں، اس لئےان کی عبارتوں میں حشو و زوائد تلاش کرنا ممکن نہیں رہتا۔ عمر کے آخری دور میں مولانا موصوف نے اپنے والدِ گرامی کی سوانح لکھ کر بہت بڑا علمی کا انجام دیا۔ واقعۂ کربلا پر ان کی کتاب کافی محنت اور بڑی احتیاط سے لکھی گئی ہے۔ اس کتاب کے خلاف بعض غیر معقول شدید جار حانہ تبصروں نے اس کتاب کو زیادہ مقبول بنا دیا اور اس کی وجہ سے کتاب کی اشاعت میں بڑا اضافہ ہوا۔ اس کتاب پر جس سنجیدہ نقد و استدراک کی ضروت تھی، اس سے وہ کتاب محروم رہی۔
مولانا عتیق الرَّحْمٰن سنبھلی کا سب سے مبارک کام ان کی تفسیر `` محفل قرآن`` ہے جس کو انھوں نے عمر کے آخری مرحلہ میں اپنے والدِ گرامی کے حکم سے شروع کیا۔ الحمد للّٰهِ اس کی تین جلدیں شائع ہو چکی ہیں۔ مولانا کے پیشِ نظر عربی، اردو ، انگریزی تفاسیر کا پورا ذخیرہ تھا۔ تفسیرِ قرآن کی پیچیدگیاں ان کی نظر میں تھیں اور نئے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو قرآن سمجھنے میں جو اُلجھنیں پیش آتی ہیں اور جو اِشکلات لاحق ہوتے ہیں، ان پر بھی مولانا کی نظر تھی۔ ان سب کو مدّنظر رکھتے ہوئے مولانا موصوف نے جلد بازی میں نہیں بلکہ بہت غور و خوض کے بعد قرآنی آیات و سورتوں کی تفسیر لکھی ہے۔ وہ بلاشبہ ایک عصری تفسیر ہے جو تفسیر کے صحیح منہج پر قائم رہتے ہوئے عصری تقاضوں کو بھرپور انداز میں پورا کرتی ہے۔ اللہ جلّ شانہ مولانا عتیق الرَّحْمٰن سنبھلی کو مزید عمر و صحت نصیب فرمائے تاکہ وہ محفلِ قرآن کو مکمل کر سکیں.

0 Comments