فیض احمد فیض
ادب میں نظریے کی بحث بہت پرانی ہے۔ اب تو بات یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ آیا ادب کو کسی نظریے کے تابع ہونا بھی چاہیے یا نہیں! جدید عہد کا ایک پرزور مطالبہ یہ ہے کہ کسی بھی نظریے کی پاسداری دراصل ادیب پر نادیدہ پابندی ہی کی ایک شکل ہے، جسے کسی تخلیق کار پر مسلط کرنا جبر کے مترادف ہے
فیض احمد فیض زندگی بھر ترقی پسند تحریک سے وابستہ رہے۔ لامحالہ ان کی شاعری کو اسی تحریک کے نظریے کے عین مطابق ہونا چاہیے تھا۔ ان کی شاعری میں بلند آہنگ نعرہ بازی کی گونج ہونی چاہیے تھی۔ الفاظ کی گھن گرج سے کان پڑی آواز بھی سنائی نہیں دینی چاہیے تھی۔ ان کی شاعری کا غالب حصہ نظریاتی پروپیگنڈے پر مشتمل ہونا چاہیے تھا۔ مگر ان کی شاعری میں ابال کی ایسی کوئی بھی کیفیت نہیں پائی جاتی۔ ایسا نہیں کہ وہ اپنی شاعری میں اپنے نظریے سے دست بردار ہوئے ہیں۔ بل کہ وہ مکمل طور پر اس پر قائم نظر آتے ہیں۔ لیکن ان کا لہجہ شائستہ اور شعری نزاکت کا حامل ہے۔ وہ سخت سے سخت بات بھی اس نرمی سے کہہ جاتے ہیں کہ ان کے نظریاتی مخالف بھی اس کی داد دیے بغیر نہیں رہ پاتے۔ بیان کی اسی دل کشی نے انھیں محبوبیت کے ایسے درجے پر فائز کردیا ہے، جہاں تک پہنچنے کی تمنا تو ہر تخلیق کار کرتا ہے۔ مگر یہ مقام کسی کسی کو نصیب ہوتا ہے۔
فیض صاحب کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے اپنی نظری و فکری اساس کے جھمیلوں سے اپنی شاعری کے حسن کو پامال نہیں ہونے دیا۔ بلاشبہ ان کی شعری محاسن سے مالامال شاعری میں اتنی قوت ہے کہ وہ تادیر زندہ رہ سکتی ہے۔
ہماری نسل کے لوگوں نے غالب اور اقبال کو نہیں دیکھا مگر یہ خوش بختی کیا کم ہے کہ ہم نے فیض صاحب کے عہد میں سانس لیا اور ان کے دیدار کی سعادت سے فیض یاب ہوئے۔
بشیر عنوان

0 Comments