شان بنو امیہ
سقوط غرناطہ اسلامیان اندلس کے لئے قیامت کی گھڑی تھی. سات سو سالہ اقتدار کا سورج غروب ہوچکا تھا. اذان کی آوازیں خاموش اور مساجد ویران ہوچکی تھیں. جامعہ قرطبہ پر صلیب نصب کی جاچکی تھی. مسیحی حکمرانوں نے کچھ ہی عرصے بعد مسلمانوں سے کیے ہوئے تمام معاہدے منسوخ کردیے تھے اور اسلام کو بحثیت مذہب سپین میں ممنوع قرار دے دیا تھا. جو قافلے پہلے پہل چلے گئے سو چلے گئے اب مسلمانوں کی ہجرت پر بھی پابندی عائد کردی گئی تھی اور انہیں جبراً بپتسما دیا جارہا تھا. یہ سلسلہ دہائیوں تک چلا اس درمیان مسلمان اندلس نے کئی بار بغاوت کی مگر ناکام رہے اور ہزاروں مسلم جام شہادت نوش کرتے رہے.
ایسے میں ہزارہا مسلمان ایسے تھے جنہوں نے ظاہراً مسیحی مذہب اختیار کرلیا اور کسی معجزے کے انتظار میں پس پردہ ایمان کی شمع دل میں روشن رکھی.
ایسے گھٹن زدہ ماحول میں ایک مسلم خاندان میں سقوط غرناطہ کے تیس برس بعد ایک بچہ پیدا ہوا جس کا بپتسمہ کرکے اس کا نام فرنینڈو ڈی ویلور (Fernando de valor) رکھا گیا. یہ بظاہر مسیحی تھا مگر رات کی تاریکی میں اپنے رب کے آگے سربجود رہتا تھا اور اسلامی شریعت پر عمل کرتا تھا.
اندازہ کیجئے ایسے وقت میں جب اندلسی مسلمانوں کے لئے دنیا بھر میں کوئی جائے امان نہیں تھی یہ اپنی مرضی سے موت تک کو گلے نہ لگاسکتے تھے. انہیں شراب پینے اور حرام گوشت کھانے پر مجبور کیا جاتا تھا. ان کا چرچ میں حاضری دینا لازمی تھا. ان کی زبان , تہذیب و ثقافت اور سب سے بڑھ کر ان کا مذہب ان سے چھین لیا گیا تھا. اذان تو کیا قرآن مجید تک پڑھنے و رکھنے پر پابندی تھی ایسے وقت میں بھی حوصلہ ہار کے جھک جانے کے بجائے یہ چھپ کر ہی سہی مگر اسلام ہر عمل پیرا رہے. اور جب یہ بچہ جوان ہوا تو اس کی رگوں میں موجود اموی خون نے نے اپنا اثر دکھایا اور اس نے مسیحی سپین میں مسلمانوں کآ آخری فیصلہ کن معرکہ لڑا جو تاریخ میں مورسیکو ریوولٹ 1568 کے نام سے مشہور ہوا .
چونکہ قریشی اموی خون رگوں میں دوڑتا تھا اسی لئے عزیمت کی راہ پر چلتے ہوئے اس نے مزید دوغلی زندگی گزارنے سے انکار کیا اور مسلمانوں کو جھنجوڑ کر بغاوت پر آمادہ کیا اس نوجوان نے اپنے عظیم اجداد کے نام پر اپنی کنیت ابن امیہ رکھی. مسلمانان اندلس نے اس کے ہاتھ پر بیعت کرکے انہیں اپنا امیر تسلیم کیا اور سقوط غرناطہ کے اسی برس بعد ایک بار پھر سے امویوں نے اپنی تلوار بے نیام کرکے اسلامی پرچم سپین میں بلند کردیا. یہ بغاوت مسلسل تین برس تک چلی اور ایک وقت میں اس حد تک بڑھ گئی کہ لشکر اسلامی نے ایک بار پھر سے غرناطہ فتح کرنے کی کوشش کی مگر اس وقت غرناطہ کی حفاظت تین مسیحی ممالک کی افواج کررہی تھیں اسی لئے ناکامی ہوئی مگر بغاوت چلتی رہی. اس دوران کئی اہم و خونریز معرکے لڑے گئے جن میں اموی فاتح رہے اور دشمن کو بھاری نقصان پہنچایا گیا.
اس قافلہ سخت جان نے سیرا نیوڈا کی پہاڑیوں کو اپنا مسکن بنایا اور گوریلا حملوں کے ساتھ چار باقاعدہ جنگیں لڑی گئں جن میں داد شجاعت دیتے ہوئے ایک بڑے رقبے پر اسلامی حکومت ایک بار پھر قائم کرلی گئی. جس سے بادشاہ فلپ دوئم بوکھلا گیا اور اسے ختم کرنے کے لیے سپین نے نہ صرف مکمل جنگی قوت جھونک دی بلکہ دیگر ممالک سے بھی امداد طلب کی۔
سپین میں مسلمانوں کی بغاوت اور ابن امیہ کی بہادری کے قصے دور تک پھیلے اور ان کی مدد کے لئے عثمانی خلیفہ نے چار ہزار جری ترک سپاہی اور بہترین کماندان بھیجے جبکہ چند ہزار بربر سپاہی بھی اسلامیان اندلس کی مدد کو آئے اور باقاعدہ ابن امیہ کے ہاتھ پر موت کی بیعت کی. یہ سب کچھ مسیحی بادشاہت کے لئے ناقابل برداشت تھا اسی لئے سازشوں کا جال بچھایا گیا اور غداران ملت کے ہاتھوں ابن امیہ کو قتل کروادیا گیا.
اس عظیم نوجوان کی شہادت کے بعد جب لوگوں نے عثمانی ترک جرنیلوں کو امارت سنبھالنے کے لئے کہا تو انہوں نے انکار کردیا اور جواب دیا کہ وہ یہاں خلیفہ کے حکم پر ابن امیہ شہید کے مددگار بن کر آئے تھے حکومت کرنے نہیں. جس کے بعد اس عظیم گروہ کی قیادت ابن امیہ کے عزیز ابن ابو اموی نے سنبھالی اور اگلے تین سال آسٹریا, پرتگال اور سپین کی مشترکہ فوجوں پر پے در پے حملے کرتے رہے مگر بالاخر یہ بھی داد شجاعت دیتے ہوئے زخمی ہوکر گرفتار کیے گئے اور غرناطہ لا کر ہجوم کے سامنے ان کا سر قلم کرکے نعش کو گلیوں میں گھسیٹا گیا اور نعش کو جلا دیا گیا جبکہ ان کے سر کو شہر کے مرکزی دروازے پر لٹکا دیا گیا. ان کے جان نثاروں کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا گیا یوں مسلمانان اندلس کی عزیمت کا آخری باب ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا.
سوچیے بنو امیہ کا خون کس قدر مبارک ہے کہ ہمیشہ دین اسلام کی سربلندی کے لئے بہا ہے.
بغاوتیں تو شروع میں کئی ایک ہوئی مگر یہ اس لحاظ سے سب سے اہم تھی کہ سقوط غرناطہ کے اسی برس بعد ہوئی جبکہ سپین سے مسلمان اور اسلام بظاہر مٹ چکے تھے
سوچیے اگر ابن امیہ جیسے نوجوانوں کے شوق جہاد کا یہ عالم تھا تو ان کے اجداد سیدنا معاویہ (رض) و دیگر اموی صحابہ (رض) و تابعین کا تقویٰ اور شوق جہاد کیسا ہوگا.
بنی امیہ کے غیور جوانوں سلام تم پر.
بے شک یہ امت اموی خون کی مقروض ہے
سیدنا معاویہ بن ابو سفیان (رض) سلام آپ (رض) پر

0 Comments