ایک سفر، راجستھان کی مشہور دینی درس گاہ دار العلوم پوکرن کی طرف
قسط (1)
3 مارچ، صبح سویرے سبھی لوگ اپنے بستر میں دبکے ہوے محو استراحت تھے، خواب غفلت کی دنیا میں ایک طلسماتی جہاں کا منظر اپنے طرف کھینچے ہوے، ظاہری دنیا سے بالکل بے پرواہ، اچانک موبائل نے اپنی دیرینہ خاموشی کو توڑا اور زور زور سے بجنے لگا، اسکرین پر نظر پڑی تو برادرم مولانا عبد الحق صاحب کا نام نظر نواز ہوا، وقت ساڑھے تین کا ہوچکا تھا، کال دیکھتے ہی جلدی سے اٹھا اور سفر کی تیاری میں مصروف ہوگیا۔
کیا یہ عجب نہیں کہ ہم کو بارہا یہ شکوہ دامن گیر ہوتا ہے کہ ہم صبح جلدی بیدار نہیں ہوپاتے، ابلیس ملعون کی عاطفت میں اس طرح غفلت میں پڑے رہتے ہیں کہ آنکھ کھولنے تک کی مہلت نصیب نہیں ہوتی، تہجد تو بہت دور فجر کی نماز باجماعت کے لالے پڑنے لگتے ہیں؛ مگر نہ جانے یہ ابلیسی حربہ اس وقت کہاں گم ہوجاتا ہے جب ہمیں صبح تڑکے کسی سفر پر نکلنا ہو! بہت کم دیکھا گیا کہ کسی نے دنیاوی غرض سے صبح جلدی اٹھنے کا ارادہ کیا ہو اور خصوصا سفر کا، تو وقت مقررہ پر دماغ خود ہی اٹھنے پر مجبور کردیا ہے!
خیر۔۔۔ سفر تھا دار العلوم پوکرن ( راجستھان کی ایک مشہور دینی درس گاہ جو کئی دہائیوں سے تشنگان علم و عرفان کی پیاس بجھارہی ہے اور اپنے یہاں سے دین کے داعی اور ملت کے شیدائی تیار کررہی ہے، جس کو ازہر راجستھان بھی کہا جاے تو کوئی مبالغہ نہ ہوگا،) کا؛ جہاں ختم بخاری کا پروگرام اور ایک عظیم الشان اجلاس منعقد ہونا تھا، ان دنوں ختم بخاری کے جلسوں کی بھرمار ہے، ہر جگہ اس موسم میں جلسے ایسے ہوتے ہیں گویا مدارس کی شادیاں ہورہی ہوں! موجودہ زمانے میں کثرت اجلاس کی وجہ سے دینی جلسوں نے اپنی وقعت کافی حد تک کھو دی ہے؛ مگر ختم بخاری کا یہ جلسہ راجستھان کے سبھی جلسوں میں ممتاز تھا؛ کیوں کہ اس مدرسے کی جو خدمات اطراف عالم میں روشن ہیں اس سے کسی کو انکار نہیں، اس مدرسے نے ظلمت خانے میں جہاں ہزاروں مشعلیں روشن کی ہیں؛ وہیں عام لوگوں میں ایک علمی شعور اور دینی مزاج کو پیدا کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
صبح چار بجے کار کے ذریعے برادرم عزیز مولوی عبد الحق سلمہ کی قیادت میں اس مبارک سفر کا آغاز ہوا، ساتھ میں برادرم محمد شکیل، عبد المنان اور عبد الواجد بھی شریک سفر رہے، یہ پانچ افراد کی ایک چھوٹی سی جماعت جن میں سے اکثر تو پہلی مرتبہ اس قدیم علمی درس گاہ کو دیکھنے ارادہ دل میں لیے ہوے، کشاں کشاں چلے جارہے تھے، دار العلوم پوکرن کے دیدار کی خوشی اور اس کے تئیں دینی جذبات قابل دید تھے!
سفر کی کلفتیں اور آزمائشیں سن سن کر ہمیشہ ہی سے سفر سے ایک خوف سا محسوس ہوتا ہے، جب بھی کہیں کا سفر کیا بوجہ مجبوری کیا؛ مگر یہ سفر ایک اختیاری سفر تھا، اور اختیاری سفر میں انسان جن عجائبات سے لطف اندوز ہوتا ہے وہ واقعی زندگی میں اپنا ایک باب رکھتے ہیں!
ڈر ہم کو بھی لگتا ہے رستے کے سناٹے سے
لیکن ایک سفر پر اے دل اب جانا تو ہوگا
(جاری)
نیاز مند: صہیب الفاتح


0 Comments