پیر غیب کا سفر (2)
زرک میر
میرے برجستہ جملے کے بعد تینوں دوستوں نے ایک دوسرے کو دیکھ کر خوشگوار حیرت کا اظہار کیا ۔
میں نے ان کی حیرت ختم کرتے ہوئے اپنے بیگ کی جانب اشارہ کیا جو میں روانہ ہونے سے قبل اپنی گاڑی کی ڈھکی سے اٹھا لیا تھا ۔ وہ سمجھ گئے کہ میں نے اپنا زاد راہ اٹھا لیا تھا ۔
زرک تم یونہی الفاظ کا گورکھ دھندہ ہو عملی طورپر نہ تو وطن پرست ہو نہ کچھ اور ۔ میزبان دوست نے مجھے ٹھوکتے ہوئے کہا ۔
جی ہاں میں کچھ بھی نہیں اس کا قطعی کوئی دعویٰ بھی نہیں لیکن یہ حب الوطنی کا کوئی معیار بھی تو نہیں ۔ میں نے سگریٹ سلگا کر دوست کو لاجواب کرنے کی کوشش کی ۔
نہیں یہ کوئی معیار یا شرط تو نہیں لیکن قول اور فعل کا سچا ہونا لازمی ہے ۔ کہتے کچھ ہو کرتے کچھ ہو ۔ تم نے کہا کوئی مشروب نہیں اور اب یہ بیگ ؟ ڈرائیو کرنے والے دوست نے مجھے دیکھ کر مسکراہٹ کیساتھ ایک سخت جملہ کسا ۔
جی ہاں میں اپنے قول و فعل کا قطعی پابند نہیں ۔ اگر یہ معیار لازم ہے تو ایسے حب الوطنی اور حب القومیت سے ہم باز آئے ، ہم باز آئے ۔ گہرا کش لیتے ہوئے میں شاعرانہ انداز میں گویا ہوا ۔
۔ اسی اثناء میں ہماری گاڑی ایری گیشن سے گزر گئی اور ڈگری کالج کے سامنے پہنچ گئی ۔
یہ ڈگری کالج بھی ایک وقت میں طلباء سیاست کا گڑھ رہا ۔ میں یہاں تین ماہ پڑھ پایا جہاں اس وقت میرے ہدہ شریف کے کچھ دوست وطن اسٹوڈنس فیڈریشن میں تھے جو نواب بگٹی کی پارٹی جے ڈبلیو پی کا طلباء ونگ تھا جبکہ باقی کالج میں بی ایس او مینگل کا غلبہ تھا ۔
ایک دن میرے دوست مین گیٹ کیساتھ کینٹین میں بیٹھے ہوئے تھے کہ وہ کسی کام سے باہر نکلے اور ان میں سے ایک نے اپنی کاپی میرے سامنے والے ٹیبل پر چھوڑ دی جس پر نواب بگٹی کی ایک خوبصورت تصویر چسپاں تھی ۔ میں نیا نیا کالج میں داخل ہوا تھا میں کسی کو خاص نہیں جانتا تھا اور کوئی مجھے نہیں جانتا تھا تو دیکھا کہ کچھ لوگ میرے ٹیبل پر آکر بیٹھ گئے ان میں سے ایک ( جو بعد میں پتہ چلا کہ بی ایس او مینگل ڈگری کالج کا یونٹ سیکرٹری تھا ) نے اس کاپی پر نواب کی تصویر دیکھ کر براہوئی میں اپنے دوستوں کو کہا !
اللہ خیر کے داسہ نواب بگٹی نا منوک آک ام کالج خواننگ او ۔ (اللہ خیر کرے اب نواب بگٹی کے ماننے والے بھی کالج میں بڑھنے لگے ہیں ۔وہ سب مسکرا گئے) یقینا نواب صاحب کے طلباء ونگ کو بلکہ پارٹی جے ڈبلیو پی کو کبھی وہ پذیرائی نہیں ملی جو باقی قوم پرست پارٹیوں اور ان کے طلباء ونگز کو ملی تھی ۔ اس وقت بی این پی مینگل اور جے ڈبلیو پی میں ویسے بھی 1998 کی مشترکہ حکومت کے خاتمے کی مخاصمت کو لے کر بڑی کشیدگی تھی تب ہی بی ایس او والوں نے ایک طنز کا تیر چلایا لیکن انہیں پتہ نہیں چلا کہ انہوں نے یہ تیر ہوا میں ہی چلایا ہے ۔ وطن ایس ایف والا کارکن وہاں موجود ہی نہیں تھا ۔ وہ دوست جس کی وہ کاپی تھی وہ ہماری گاڑی چلا رہا تھا ۔
ہم ڈگری کالج کے سامنے سے ہوتے ہوئے پولی ٹیکنیک کالج ( گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی) سے بھی گزر گئے کیونکہ دونوں کالج جڑواں ہیں ۔ میں نے جب ڈگری کالج میں داخلہ لیا تو میرے علاقے کے تین دوستوں نے پولی ٹیکنیک کالج میں داخلہ لیا تو مجھے بڑی کوفت ہوئی کہ میں انجینئر نہیں بن پائونگا لیکن اللہ کے فضل وکرم سے میرے وہ تینوں دوست تو انجینئر نہ بن پائے لیکن میں اب گڈانی میں ساحل سمندر پر دیوہیکل بحری جہازوں کو توڑنے اور ان کا سامان ٹھکانے لگانے کے کام کی نگرانی کرتے ہوئے وہ پیلا کیپ ( انجینئرز والا پیلا ہیلمٹ ) پہن کر اپنے آپ کو بڑا انجینئر ضرور تصور کرتا ہوں حالانکہ نہ تو میں حقیقی طورپر انجینئر ہوں نہ یہ سب میرا کام ہے ۔
گاڑی کی رفتار کچھ تیز ہوگئی کہ ڈگری کالج سے آگے راستہ کچھ بن گیا تھا ۔ہم کسٹم پہنچ گئے جہاں کافی رش محسوس ہوا کیونکہ یہاں جنکشن چوک ہے یہاں سے مشرقی مغربی اور جنوبی اطراف کیلئے شاہراہیں نکلتی ہیں ۔ جب ہم پچپن میں یہاں سے گزرتے تو کسٹم پر نوشکی تفتان شاہراہ پر سنگ میل عین وسط میں نصب تھا جس پر لندن کا فاصلہ بھی درج ہوتا تھا حالانکہ اس سنگ میل پر نوشکی تفتان دالبندین خاران کا بھی فاصلہ لکھا ہوتا تھا( یا اب بھی ہوگا) لیکن ہمارا دل لندن کیلئے ہی للچاتا لیکن شومئی قسمت دیکھیئے کہ اس شاہراہ پر میں محض کڑدگاپ تک ہی سفر کر پایاہوں ۔نوشکی تک جانا نصیب نہیں ہوا ہے ، کاش کہ اگر پچپن میں نوشکی کیلئے دل للچاتا تو اس وقت تک ہم نوشکی جاچکے ہوتے لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ " دور کے ڈھول سہانے" اور پھر لندن کے تو ڈھول ، بول ، رول اول فول سب سہانے ۔
ہم کسٹم سے مشرقی شاہراہ پر آگئے اور اب ہم دشت روڈ پر تھے اور گاڑی کی رفتار تیز ہوگئی تھی ۔ میں نے ڈرائیو کرنے والے دوست سے کہا کہ گاڑی کی رفتار اس قدر مت بڑھائیں ، آگے آبادی ہے تو کہنے لگے !
یہ آبادی نہیں بربادی ہے ۔ یہ آبادی ہم پر مسلط کی گئی ہے یہ افغان مہاجرین کی آبادی ہے ۔
تو کیا مہاجرین کی آبادی میں گاڑی تیز چلائوگے ؟
کاش کہ ہمارا عوامی رویہ ایسا ہی معاندانہ ہوتا تو ہمارا وطن یوں گزرگاہ نہ بن پاتا ۔ میرے میزبان دوست نے میر ےاستفسار پر مجھے جواب دیا ۔
اب تو دشت میں ہائوسنگ اسکیمز بھی افغان مہاجرین کی ہیں ۔ تیسرا دوست نے لقمہ دیا ۔
ہاں اب تو افغان مہاجرین کے بغیر دشت کے باغات بھی پھل نہیں دیتے ۔ میزبان دوست نے قہقہے کے ساتھ اپنا جملہ مکمل کیا ۔
گویا چیونٹیوں کے شہر کے شہر بن رہے ہیں جب جب چیونٹیوں کے نئے شہر بنیں تو سمجھیں کہ پاس کا گائوں آباد ہے ۔ ڈرائیو کرنے والے نے اپنی بات ختم کی تو میزبان دوست نے کہا !
یہ آبادی درحقیقت بربادی ہے ۔ یہ چیونٹی نہیں دیمک ہیں ۔
یہ تو گڈانی میں اب جہاز بھی توڑنے لگے ہیں ۔وہاں گنگا کے جذبات بھی تم لوگوں کے جذبات جیسے ہیں ۔ میں نے دوستوں سے اتفاق کرتے ہوئے دو جملے کہہ ڈالے ۔
ہم آگے بڑھ کر 13 میل کے علاقے میں ایک ہوٹل پر رکے جو چلتن نائٹ کے نام سے قائم ہے حالانکہ ہم نے تھوڑی دیر پہلے چائے پی تھی لیکن دوستوں نے کہا کہ ایک ایک کپ چائے کا اور ہو جائے ۔
جب میں نے نیچے اتر کر ہوٹل کے عقب میں مغرب کی جانب دیکھا تو میری نظر چلتن پر پڑی جو دیوہیکل پرشکوہ انداز میں مستعد کھڑا نظر آیا ۔
چلتن ہمارے پہاڑوں کا اولڈ میجر( مجھےاولڈ میجر کیلئے براہوئی میں مناسب لفظ "پِیرِنگا (Peringa) " مناسب لگتا ہے ) ہے جو ہزاروں سال سے مستعد کھڑے رہنے کا درس دے رہا ہے ۔ میرے منہ سے بے اختیار یہ الفاظ نکلے ۔
اور چلتن ہمارے اولڈ میجر کا مستقل مسکن بھی ۔
جی ہاں چلتن میں سارے کردار موجود ہیں سارے کے سارے ۔ یہاں وہ سادہ لوح گھوڑے ، بھیڑیں ، بکری اور مرغیوں کے ساتھ ساتھ نپولین کے غراتے کتے اور مارخور بھی جابسے ہیں ۔ حتی کہ وہ Moses نامی کوّا بھی ۔ اینیمل فارم میںMoses نامی کوّا کا کردار بڑا دلچسپ اور سبق آموز انداز میں چرچ کے طورپر دکھایا گیا ہے جو لوگوں کو Sugar Candy Mountain نامی جنت کا خواب دکھاتا ہے ۔ جس کے لئے براہوئی میں محاورہ زدزبان عام ہے کہ " خاخو پاٹاٹے " یعنی کوے کے کردار کو براہوئی ادب میں بھی منفی انداز میں غداری ، مخبری اور دغا ہی سمجھا گیا ہے ۔ لیکن ہمارے پاس جو چلتن کی پہاڑی موجود ہے یہ حقیقی Sugar Candy Mountain ہے ۔ اس کے میٹھے چشمے ابلتے رہتے ہیں ۔ یہ کہہ کر میں نے اپنے مسکراتے دوستوں کو ایک نظر دیکھا اور اپنی بات جاری رکھی ۔
ایک سندھی دانشور ایک بار یہاں آیا تو چلتن کو دیکھ کر کہا !
چلتن اگر سندھ میں ہوتا تو ہم سندھی اسے پوجتے ۔ یہاں کے ایک وطن زاد نے اسے جواب دیا کہ " ہم چلتن کو پوج کر اس سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہتے ۔کیونکہ پوجا خوف کی علامت ہے ۔ ہم اس سے سنگتی اور ایلمی کا رشتہ قائم رکھے ہوئے ہیں ۔ یہ ایلمی اور سنگتی نبھاتا ہے ۔ ہم چلتن کی بلندی سے حوصلہ لیتے ہیں ۔ اس کے دامن میں رہنے والوں کو ڈی کوڈ کرنے کی دیر ہے یہاں سے چشمے ابل پڑیں گے کہ اس بلند و بالا پہاڑ کے دامن میں تہذیب نے پرورش پائی ہے ۔
یہ کہہ کر ہم دوست ایک Hut کے نیچے رکھے ٹیبل پر بیٹھ گئے اور چائے کا انتظار کرنے لگے ۔
(جاری ہے )
(تصویر نیٹ سے لی گئی ہے جو چلتن کی کسی چوٹی سے کھینچی گئی ہے ۔ یہ تصویر مجھے چلتن کی ہی لگی اور منفرد لگی اس لئے شکریہ کیساتھ شیئر کررہا ہوں )


0 Comments