پیر غیب کا سفر (1)
زرک میر
شال کی سحر اور پھر صبح کا اپنا لطف ہے ۔ ایک وقت تھا جب ہدہ شریف میں سحر کو ہی ہاکر کے مخصوص ہارن پر اٹھ کر اخبار لیتا اور فورا پڑھ لیتا ۔ اب اخبار نہیں موبائل اٹھا کر فورا سکرولنگ شروع کی جاتی ہے ۔
20 مارچ کو حالانکہ رات کو مشروبانہ محفل نے مجھے مسرور ومخمور تو کردیا تھا لیکن ساتھ ساتھ خوفزدہ بھی ۔ کیونکہ سونے سے پہلے خاکی کتے نے مجھے کافی خوفزدہ کردیا تھا ۔ مجھے سور نپولین کے کتوں کا خیال آیا جو ہر اس پر غراتے جو سور نپولین کے خلاف بات کرتا ۔ کتا بھی انسان جیسا ہی مزاج رکھتا ہے کہیں یہ حساسیت کی انتہاء کردیتا ہے اور باشعور اور سلیقہ مند ہوتا ہے تو کبھی یہ ظلم و ذیادتی کا ساتھی بن جاتا ہے ۔ شال میں کافی عرصے سے یہی صورتحال ہے ۔ یہاں جونز اور سوّرنپولین کے کتے کھلے ہوئے ہیں ۔ ہٹلر کے خطرناک خفیہ گسٹاپو کے جیسے پہرے ہیں ۔ لوگوں کو بلا جنسی امتیاز و صنف اٹھا کر انہیں چند دنوں میں اپنی زبان رٹانے پر مجبور کیاجاتا ہے ۔
خلاف توقع میں پہلے ہی جاگ گیا تھا ۔دوست نے ناشتہ لایا ۔ ہمارا بولان پیر غیب جانے کا پروگرام تھا۔ طے شدہ پروگرام کے تحت ہم نے دو مزید دوستوں کو اطلاع دی کہ ہم تیار ہیں ۔
میری گاڑی دوست کے گھر میں کھڑی کردی گئی اور ہم تیسرے دوست کی گاڑی میں نکل گئے ۔
ہم ہدہ شریف سے نکلتے ہی جوائنٹ روڈ پر پہنچ گئے ۔ یوں سریاب کو شہر سے ملانے والی مرکزی شاہراہ تو زرغون روڈ ہے لیکن مجھے ہمیشہ سے جوائنٹ روڈ ہی بھاتا رہا ہے ۔ یہ جوائنٹ روڈ ہی وہ شاہراہ ہے جو ہمیں ہر بار ایوان قلات چوک تک پہنچاتی ہے اور آگے قلات تک میرا راستہ یہی ہے اور مستقبل میں بھی ہمیں یہ شاہراہ قلات تک پہنچائے گی ۔ یہ فطری اور فکری شاہراہ ہے جو ہمیں سریاب سے ملاتی ہے ۔ یہ شاہراہ وہی شاہراہ ہے جس پر میں 1992 میں ایک اولڈ میجر کا خطاب سننے کیلئے لاشعوری طورپر ہدہ شریف سے روانہ ہوا تھا ۔
میزبان دوست نے چائے پینے کیلئے جوائنٹ روڈ پر ہی گاڑی رکوا دی جہاں حاجی خان ہوٹل پر ہم نے چائے پی ۔ میں نے جب ہوتل کا بورڈ دیکھا تو مجھے بولان کے مشہور براہوئی گلوکار حاجی خان یاد آگئے جو اپنے مخصوص خیالات اور مخصوص دھنوں کی وجہ سے مشہور تھے ۔ میں نے دوست سے کہا !
حاجی خان کے گانے ہوں تو راستے میں وہ بھی چلا دیں ۔ دوست نے معنی خیز شرارتی مسکراہٹ کیساتھ میری طرف دیکھا۔ میں نے جوابا کہا !
جی ہاں بالکل ۔
وہ ہنس دیئے ۔
حاجی خان نے ہمارے سماج کے ایک اہم پہلو ( ہم جنس رجحانات) کو بھی نظر میں رکھتے ہوئے نہ صرف اپنے شاگرد ظریف کے لکھے ہوئے گیت گائے بلکہ خود بھی ایسے گیت تخلیق کئے ۔ میں تو انہیں منفرد شاعر اور گلوکار کہنے میں عار محسوس نہیں کرتا ۔ یہ تو براہوئی زبان کی امتیازی حیثیت ہے کہ حاجی خان نے براہوئی میں اس پہلو پر بھی گیت لکھے اور گائے ۔ میرے خیال میں یہاں کی باقی زبانوں میں اس خیال پر اب تک کوئی کوئی ریت نہیں رہی ہے اگر ہے تو میں اس سے واقف نہیں ۔ حاجی خان نے اس پہلو پر کافی گیت گائے ہیں اور انتہائی جرات مندانہ انداز میں سخت گیر علاقے میں یہ گیت گائے ہیں ۔دوسرا یہ کہ انہوں نے ہی شاہد براہوئی گلوکاری میں سندھی اور سرائیکی طرز میں بھی براہوئی گیت گائے ۔ میں نے سنجیدگی سے اپنے دوستوں کو دیکھتے ہوئے اپنی بات آگے بڑھائی اور مکمل کی ۔
کچھ چھیڑ خانی کے بعد ہم وہاں سے روانہ ہوگئے ۔
گاڑی سریاب روڈ پر تھی ۔ کافی رش تھا ، خراماں خراماں ہم سریاب لنک روڈ پر پہنچے ۔ میں نے سریاب روڈ کے قیصدے گانے شروع کردیئے تو میزبان دوست نے کہا کہ " ایک دن تم نے بوتل (لاڈی) کے لمس سے سیر ہوکر "سریاب" کو "شراب " کہہ دیا تھا ۔ اس بات پر قہقہہ پڑا ۔ میں نے کہا ! سریاب( سرآب ) سے تو شراب اچھا ۔ لیکن اولڈ میجر نے شراب پینے سے منع کردیا ہے اس لئے اس کے لئے میں نے دانستہ نا دانستہ اگر ایسا کہا ہے تو یہ درست بات نہیں کہ سریاب میں پرہیز گار اور عبادت گار بھی رہتے ہیں ۔
ایک اور قہقہہ پڑا ۔
ڈرائیو کرنے والے دوست نے کہا! اس لئے میں تو کہتا ہوں کہ سریاب کو " سوراب " لفظ کے تناظر میں لیاجائے جو تاریخی طورپر ہمارے وطن کا پہلا سیاسی مرکز رہا ہے ۔ تیسرے دوست نے کہا !
سریاب کو سیرآب یعنی ( سیراب) سمجھنا چاہیئے ۔ چوتھے دوست نے اپنی تجویز دیتے ہوئے کہا ! سریاب کو سارآب ( براہوئی میں سار ہوش کو کہتے ہیں یعنی آب ہوش ) ۔ دوستوں نے تائید میں سر ہلایا ۔
سریاب کو اس کے ماخذ سرآب ( عمومی رائے ) ہی رہنے دیاجائے تو بہتر ہے کہ اب تک سرآب کے پیچھے بھاگنے کا سلسلہ ختم نہ ہوا ۔ یہ ہمیں احساس دلاتا رہے کہ ہم اب تک سرآب کے پیھچے بھاگ رہے ہیں لیکن ایک بات پر غور کریں یہ سرآب بھی درست نہیں کہ ہم جہاں کہیں بھی جائیں سریاب سے ہوکر جاتے ہیں اور آگے چل کر ہمارا سامنا دشت کے گواخ کے پھولوں سے ہوتا ہے جو ہمیں بہار عظیم کا پیغام دیتے ہیں تو یہ قطعی سرآب نہیں ۔ سریاب ہی ہمیں عظیم المرتبت شہر قلات سے ملاتا ہے ، خضدار جیسے مہرستان سے ملاتا ہے ۔ ساراوان جھالاوان ، لسبیلہ (سمندر) رخشان ، مکران ، ایران ، افغانستان اور دریائے سندھ تک کی شاہراہ ہی سریاب ہے ۔ سریاب تو ایک دروازہ ہے ایک در ہے ایک آغاز ہے ایک ابتداء ہے ۔ یہ ہم پر باقی وطن آشکار کرتا ہے ۔ میں تو کہتا ہوں کہ سریاب "دار الوطن " ہے ۔ آغاز وطن ہے ،ابتداء وطن ہے ۔
دوستوں نے حسب توقع روایتی انداز میں تائید میں منڈھی ہلائی ۔
ہم یونیورسٹی کے سامنے پہنچے ، میں نے دوستوں سے کہا کہ یونیورسٹی میں بک اسٹالز لگتے ہیں آپ لوگ یونیورسٹی جاتے ہیں؟ سب دوست یک زبان ہوکر کہنے لگے ! ہم یونیورسٹی میں اتنا زیادہ وقت گزارتے ہیں جتنا گھر میں نہیں گزارتے ۔ میں نے فورا کہا تو یہ سیکورٹی کا ایشو کیسا ہے ؟ کہنے لگے ! وہی رات والی بات ہے اینیمل فارم والی ۔ یونیورسٹی شال کے جیسے فارم کا ایک ڈربہ ہے ۔ "پاپا جونز" ہمیں کھنڈی لگاتے ہیں۔ ہمیں سدھانے کیلئے ۔ لیکن آنا پڑتا ہے پڑھنا تو ہے ۔ آخر ایک نہ ایک دن یہ پاپا جونز والے ہمیں کنڈی لگانا بھول جائیں گے ۔
باتوں باتوں میں ہم برما ہوٹل پہنچے اور رش کے ساتھ ساتھ ہم آگے بڑھ رہے تھے ، برما ہوٹل ویسے کا ویسا ہی ہے ۔ وہی دکانوں کی سائز وہی روایتی پرانی دکانیں ۔ لیکن اب جو زیر تعمیر شاہراہ ہے وہ سب بھسم کردیگا ۔ بڑی جنبش لائے گا ۔
یکدم ایک دوست نے پوچھا !
زرک جوس کونسی لیں ؟ کونسا مشروب ؟
پیر غیب کا پانی کھارا ہوگیا ہے کیا ؟ میں نے برجستہ دوست سے استفسار کیا ۔
( جاری ہے )


0 Comments