میواتی غزل
گھر بستی اے چھوڑ کے جائے ڈھونڈنے نکلو بن کے بیچ
تو مورکھ ہا ای نہ جانا او بیٹھو ہے من کے بیچ
جو جانے ہے فطرت یا کی ڈوڈھو بچ کے نکلے ہے
سانپ سیہاوے اپنا من میں روپ گھنو ہے پھن کے بیچ
اٹی پڑی ہے من کی باکھل باس ٹکن نہ دے ری ہے
تنگ آ گا ہاں پران بچارا رہتے رہتے تن کے بیچ
انت برو ہے ان سیانوں کو جاناں ہاں پر مانا نہ
آسن ماری بیٹھا ہاں جو نردھن آگے دھن کے بیچ
شیشہ آگے کھڑو ہویو تو ڈر گو بیری اک بر تو
وا کی ای پرچھائیں کھڑی ہی ناگ بنی درپن کے بیچ
بنتی بات بگڑ نہ جائے یا کی سچی باتن سو
اک بیراگی آ بیٹھو ہے بن ٹھن کے پنچن کے بیچ
دیکھو کیسی درگت بن گی بات نہ یا پہ بن پاری
ایک گیانی برو پھنسو ہے بن پوتھی مستن کے بیچ
پانی جیسو پیار ملے تو آپ سال ہو جاواں ہم
ہو جاوے ہے وا کے جیسو رہوے جا برتن کے بیچ
پنگھٹ پہ پنہاری ہی یا پری نہاری پانی میں
بھور بھئے سو ابھی تلک ہوں میں یائی الجھن کے بیچ
فصل کدی نہ چوکھی ہو سے گینٹھ لگا لے پلہ میں
بیج کپٹ جے پڑگو رہ گی کسر کہیں جے کن کے بیچ
بھینت چنی سینواری جاسو اینٹ سبی اکساری ہی
بات کہا ای بھلی رہے گی مونج بٹی جے سن کے بیچ
اصل مرے پر کدی نہ چھوڑے ماٹی اپنا پاون کی
حسن کٹو دھرتی کے بدلے ڈٹو رہو جو رن کے بیچ
دھرتی، منتر، بچن سدا سو راکھے جان سو پیارا ای
چھوڑ بھگے نہ میو کدی بی کود پڑے جے رن کے بیچ
بھائین میں ہے جھگڑو کیسو بیٹھا سو جو نبٹے نہ
نفع میں احمد رہے گو دشمن آپس کی ان بن کے بیچ
احمد فہیم میو

0 Comments