Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

قرآن مجید کی آخری نازل ہونے والی آیات

 قرآن مجید کی آخری نازل ہونے والی آیات

سورۃ التوبۃ کے متعلق مصنف کے ایک مقالے کا کچھ حصہ 

مولانا ابو الکلام آزاد (م 1958 ء) بجا طور پر سورۃ التوبۃ اور بالخصوص آخری دو آیات کو کو الوداعی پیغام قرار دیتے ہیں اگرچہ وہ اس کے قائل نہیں ہیں کہ یہی آخری نازل ہونے والی آیات ہیں۔ سلف میں کئی ممتاز اہل ِ علم کی راے یہ ہے کہ قرآن کی آخری نازل ہونے والی آیات بھی یہی ہیں، اور ہمارے نزدیک یہی قول راجح ہے۔ یہاں اس امر کی کچھ تفصیل دی جاتی ہے۔ 

قرآن کی آخری نازل ہونے والی آیات کے متعلق امام زرکشی نے پانچ اقوال نقل کیے ہیں جن میں ایک قول علوم القرآن کے حامل صحابی ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے سورۃ التوبۃ کی انھی آیات کے متعلق روایت کیا گیا ہے۔ دیگر چار اقوال یہ ہیں: 

۔  سورۃ النصر کی آیات؛ 

۔  سورۃ المآئدۃ کی آیات؛ 

  سورۃ النسآء کی آخری آیت کلالہ؛ اور

۔  سورۃ البقرۃ میں آیات ِ ربا کے سلسلے کی آخری آیت  و اتقوا یوماً ترجعون فیہ الی اللہ۔ 

سورۃ النصر کے متعلق تو راجح یہی ہے کہ یہ مکی دور کے آخر میں نازل ہوئی۔ اس سورت کا موضوع اور قرآن مجید میں اس کا مخصوص مقام اسی بات کی گواہی دیتے ہیں۔ جہاں تک اس روایت کا تعلق ہے کہ اس سورت سے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ ﷺ کے وصال کا اندازہ لگایا تھا تو اس میں مذکور بات اپنی جگہ بالکل صحیح ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ کو یہ بتایا گیا کہ جب لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہوں اور آپ کا مشن تکمیل تک پہنچ جائے تو آپ اپنے رب کی تسبیح اور حمد میں لگ جائیے، تو ترجمان القرآن نے قرآن کا منشا بالکل صحیح سمجھا کہ جب ایسا ہوجائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ کے وصال کا وقت آگیا۔ 

صحیح بخاری کی روایت میں سورۃ النصر کے متعلق سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے صحابہ کے ساتھ مکالمے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے جواب سے اتنا ہی معلوم ہوتا ہے ۔ تاہم صحیح مسلم کی ایک روایت میں آیاہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عبید اللہ بن عتبہ سے پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو کہ قرآن کی آخری سورت جو پوری کی پوری بیک وقت نازل ہوئی کون سی ہے؟ انھوں نے جواب میں سورۃ النصر کہا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اس کی تصویب کی۔ تاہم مسلم ہی کی ایک اور روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مطلقاً سورت کے متعلق پوچھا تھا، نہ کہ آخری سورت کے متعلق۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سوال و جواب کسی خاص سیاق و سباق میں کیا گیا تھا (مثلاً ہوسکتا ہے کہ یہ مکالمہ چند مخصوص آیات و سور کے متعلق ہو اور اس میں پوچھا گیا ہو کہ ان میں کون سی سورت ایسی ہے جو پوری کی پوری بیک وقت نازل ہوئی َ) اور اس کا آخری نازل ہونے والی سورت کے مسئلے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

اسی طرح سورۃ المآئدۃ کا غالب حصہ صلح ِ حدیبیہ کے بعد عمرۃ القضاء سے قبل نازل ہوا، جیسا کہ سورت کے ابتدائی حصے (ولا یجرمنکم شنآن قوم ان صدوکم عن المسجد الحرام ان تعتدو1) اور اختتامی حصے (حرم کے قریب شکار کی ممانعت اور دیگر متعلقہ احکام ) سے یقینی طور پر معلوم ہوجاتا ہے ۔ جہاں تک اکمال ِ دین کی آیت کا تعلق ہے تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس آیت کا نزول آخری دور میں ہوا، نہ ہی حجۃ الوداع کے موقع پر اس آیت کی تلاوت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس آیت کا نزول اس موقع پر ہوا کیونکہ اکمال ِ دین کی بات جس ٹکڑے میں کی گئی ہے وہ پوری آیت نہیں بلکہ آیت کا ایک حصہ ہے اور اس حصے کا سیاق و سباق قطعی طور پر یہ ثابت کرتا ہے کہ اس ٹکڑے کا نزول الگ سے نہیں ہوا۔ 

اسی آیت میں اس ٹکڑے سے قبل بھی  الیوم  کا لفظ آیا ہے  (الیوم یئس الذین کفروا من دینکم)  اور اس کے ایک آیت بعد آیت ۵ میں بھی  الیوم کا لفظ وارد ہوا ہے( الیوم احل لکم الطیبٰت، و طعام الذین اوتوا الکتٰب حل لکم، و طعامکم حل لھم، و المحصنٰت من المؤمنٰت و المحصنٰت من الذین اوتوا الکتٰب من قبلکم)۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ اہل ِ کتاب عورتوں کے ساتھ نکاح کی حلت کا حکم 10ھ میں نہیں بلکہ اس سے پہلے نازل ہوا تھا۔ 

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ایک یہودی کے ساتھ مکالمے کی، جس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یوم عرفہ 10 ھ کو اس آیت کا نزول ہوا ، توجیہ شان نزول کے متعلق امام زرکشی ، امام ابن تیمیہ ، شاہ ولی اللہ اور دیگر ائمۂ مفسرین کے اصولوں کے مطابق بہ آسانی کی جاسکتی ہے ۔

صحیح بخاری کی ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت ِ کلالہ کا نزول آخری دور میں ہوا اور یہ بات سورۃ النسآء کے نظم سے بھی معلوم ہوتی ہے۔ نزول کے اعتبار سے سورۃ النسآء واضح طور پر تین ٹکڑوں میں تقسیم نظر آتی ہے۔ چنانچہ معلوم ہوتا ہے کہ آیت ۱ سے 126 تک ایک ہی موقع پر نازل ہوئیں۔ اس کے بعد آیت 127 تک 175 کچھ عرصے بعد نازل ہوئیں۔ اس کا قرینہ یہ ہے کہ آیت 127 سے 134 تک ان سوالات کے جواب دیے گئے ہیں جو سورت کی ابتدائی آیات کے متعلق ذہنوں میں پیدا ہوئے تھے اور اس کے بعد خاتمۂ سورت کی آیات ہیں۔ آخری آیت 176 کے متعلق یہی محسوس ہوتا ہے کہ یہ باقی سورت سے الگ کچھ عرصے بعد نازل ہوئی اور اسی لیے سورت کے آخر میں بطور ضمیمہ رکھی گئی ۔  

تاہم آخری آیت کے طور پر اس کا نزول قرآن مجید کے عام اسلوب کے مطابق نظر نہیں آتا۔ لمبی سورتوں کے نظم کو دیکھیے کہ خاتمۂ سورت کی آیات کا اسلوب کیسا ہوتا ہے؟ خود سورۃ النسآء کا آخری حصہ دیکھیے کہ اس کا اسلوب کیسا ہے؟ سورۃ النسآء میں خاتمۂ سورت کی آیت کے بعد آیت ِ کلالہ آتی ہے جس سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں: ایک یہ کہ اس کا نزول نسبتاً بعد میں ہوا اور دوسری یہ کہ اس آیت کی حیثیت ضمیمے اور توضیح ِ مزید کی ہے کیونکہ اس میں میراث کے اس حکم کی تکمیل اور تفصیل ہے جو آیت ۷ میں مجملاً نازل کیا گیا تھا۔ اسی لیے اس آیت کے آخر میں فرمایا گیا:  یبین اللہ لکم ان تضلوا۔ (سورۃ النسآء، آیت 176) چنانچہ یہ آیت سورۃ النسآء کے ضمیمے کے طور پر تو نہایت مناسب ہے لیکن قرآن کریم کے خاتمے یا ضمیمے کے لیے مناسب معلوم نہیں ہوتی۔ 

اسی طرح آیات الربا بھی یقینا آخری دور میں نازل ہوئیں۔ ان آیات کے اختتام پر جو آیت آئی ہے (واتقوا یوماً ترجعون فیہ الی اللہ) وہ خاتمے کے لیے مناسب بھی معلوم ہوتی ہے لیکن اگر اس آیت کے موضوع کا کا سورۃ التوبۃ کی آخری آیات کے موضوع سے موازنہ کیا جائے تو راجح یہی معلوم ہوتا ہے کہ سورۃ التوبۃ کی آیات کا نزول آخر میں ہوا کیونکہ سورۃ البقرۃ کی آیت میں آخرت کی یاددہانی نہایت پر اثر الفاظ میں کی گئی ہے جو آیات الربا کے خاتمے کے طور پر نہایت مناسب ہے لیکن سورۃ التوبۃ میں رسول اللہ ﷺ کی پوری حیات ِ مبارکہ اور سیرت ِ طیبہ سامنے رکھ کر یاددلایا گیا ہے کہ ایسے رسول کی آمد تمھارے لیے کتنی بڑی نعمت خداوندی ہے لیکن اگر تم اس نعمت ِ کبری کی قدر نہیں کروگے تو پھر اللہ تعالیٰ کو بھی، جو عرش ِ عظیم کا مالک ہے، تمھاری کوئی پروا نہیں ہے:


لقد جآء کم رسول من انفسکم، عزیز علیہ ما عنتم، حریص علیکم بالمؤمنین رؤف رحیم۔  فان تولوا فقل حسبی اللہ، لا الٰہ الا ھو، علیہ توکلت، و ھو رب العرش العظیم

(یقینا تمھارے پاس تم میں سے ہی ایسا رسول آیا ہے جس پر تمھارا نقصان میں پڑنا شاق ہے، جو تمھاری کامیابی کے لیے حریص ہے، جو مومنوں کے لیے شفیق ہیں، مہربان ہیں۔ اے نبی! اگر یہ تم سے روگردانی کریں تو تم کہہ دو: میرے اللہ کافی ہے؛ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے؛ اسی پر میں نے بھروسا کیا؛ اور وہ عرش ِ عظیم کا مالک ہے۔ )

خاتمۂ قرآن کے لیے شاید یہی سب سے زیادہ مناسب الفاظ ہیں۔ کئی مکی سورتوں کے اختتام پر اس قسم کا اسلوب نظر آتا ہے اور اسی لیے بعض مفسرین نے ان آیات کو مکی قرار دیا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ الفاظ خاتمے کے لیے ہی مناسب معلوم ہوتے ہیں۔ مولانا آزاد فرماتے ہیں: 

”اس سورت کے تمام مطالب اپنی اصل حیثیت میں اس وقت تک واضح نہیں ہوسکتے جب تک یہ حقیقت پیش ِ نظر نہ ہو کہ یہ تمام تر امت کے نام ایک وداعی پیام تھا اور احکام و مواعظ سے اصل مقصود مستقبل کے پیش آنے والے معاملات تھے، نہ کہ موجودہ۔ مفسرین کی نظر چونکہ اس پہلو پر نہیں گئی اس لیے انھیں اکثر مقامات کی شرح و توجیہ میں دقتیں پیش آئیں۔ یہ اصل پیش ِ نظر رکھ کر سورت کے تمام مواعظ و احکام پر دوبارہ نظر ڈالو، صاف واضح ہوجائے گا کہ آئندہ مرحلوں کے لیے مخاطبین کو تیار کیا جارہا ہے۔“

دوسرا قرینہ اس بات کا یہ ہے کہ عہد ِ صدیقی میں جمع ِ قرآن کے وقت ان آیات کی مصحف میں کتابت کے متعلق مطلوبہ معیار پر گواہی میسر میں آنے میں کافی مشکل ہوئی اور بالآخر سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ کی شہادت نے مطلوبہ معیار کے مطابق ثبوت فراہم کردیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان آیات کا نزول بالکل آخری دور میں ہوا۔ و اللہ تعالیٰ اعلم، و علمہ أتم و أحکم۔

محمد مشتاق صاحب


Post a Comment

0 Comments