دو طوطوں کی کہانی
آصف انظار عبدالرزاق صدیقی
بہت دنوں کی بات ہے ایک ظالم صیاد نے دام ہمرنگ زمین بچھایا دانے دنکے کی تلاش میں اڑتے پکچھی پکھیرو اس میں پھنس جایا کرتے ۔
ہرے ہرے طوطے اپنی کج منقاری کے سبب زمین پر آزادانہ پڑے دانوں پر بھی ٹھونگ نہ مارتے۔
وہ کہاں تہِ جال پھیلائے گئے دانوں کے فریب میں آتے۔۔۔ مگر رزق کی کسادبازاری سے اونچی شاخوں اور پھل پھلاری سے لدے پودوں پر اترنے والے خوش رنگ دلکش و دلنشیں ،سریلے طوطے بھی صیاد کی "جال "سازی کے پھیر میں پڑے،دھوکے کی ٹٹکی کے پاس پڑے لاسے میں سٹ گئے ، کشاں کشاں نوابوں کی ڈیوڑھی، تاجروں کے بنگلے اور حکمرانوں کی غلام گردشوں میں رکھے قفس کی تتلیوں کے پیچھے جاپہنچے ۔۔۔
ایسے ہیں ایک سنہری پنجرے کا ذکر ہے۔
دو قسمت کے مارے طوطے ایک ہی پنجرے کے قیدی ہوئے۔۔
دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا، تعارف ہوا، جان پہچان بڑھی، تو پتہ چلاکہ دونوں کے اندر ایک دوسرے کے لیے جنسی کشش کے اسباب موجود نہیں ۔اور طوطے ابھی انسانوں کی طرح روشن خیال نہیں ہوئے تھے کہ ہم جنسی کے مزے لیتے۔ صیاد کے بے رحم دل میں معصوم پرندوں کے جذبات کی کوئی جگہ نہ تھی۔اب نصف بہتر سے ملنے کی دوہی صورتیں تھیں۔
یا تو یہ قیدی چھوٹیں یا کوئی قیدی اور آن پہنچے ۔
طوطوں نے غور وفکر کیا تو انھیں سمجھ میں آیا کہ پر وبال گھسنےاور پنکھ پھڑ پھڑا نے کا فائدہ نہیں کیونکہ طوطے صیاد کی چستی ، دیوار زنداں کی مضبوطی سے خائف تھے، ہمت ہار گئے ، زندگی کی امنگیں ختم ہونے لگیں ،امیدیں بے دم ہوگئیں تو ان میں سے ایک نےمنکے کے ہزار دانوں والی مالا پر جاپ شروع کرنے کا مشورہ دیا ۔۔بھوگ بلاس کی جب کوئی آس نہ رہی تو دونوں طوطے نام خدا کی رٹ لگانے لگے۔۔
مدتوں تپسیا، جوگ، ریاضت اور راہ سلوک کے راہی رہے۔
وقت گزرتا رہا ، عیش و طرب، عشرت وشادمادنی اور لطف زندگانی سب رخصت ہوئے ۔
عشقِ لالہ رخاں ،نظارۂ خوبرویاں اور وصل بتاں کی کوئی آس امیدبھی جب نہ رہی کہ اچانک در زندان وا ہوا ۔۔پیاری نازک اندام موہنی صورت طوطی داخل زنداں کی گئی ۔۔۔۔
تسبیح و مصلے پر قابض ایک طوطے نے بے خودی میں نعرۂ ھو حق بلند کردیا ۔۔دوسرے گھاگ نے خشمگیں نگاہوں سے اپنے ہمدم دیرینہ کو گھورا
زندان کے ساتھی نے ایک کمینی مسکراہٹ اچھالی۔۔اور لذات دنیا تیاگ چکے طوطے سے کہا کہ" ابے ادھر دیکھ تیری تپسیا سپھل ہوئی"
خدا نے ہمارے لئے طوطی بھیجی ہے۔۔
اب فنا فی الوظیفہ طوطے نے "خصم" گیں نگاہوں سے طوطی کو دیکھا اور شیر کی طرح زقندبھرتا ہوا
مصلی وتسبیح کی قید سے آزاد ہوکر پہلوئے دوست میں جا ایستادہ ہوا۔۔۔راوی کہتا دونوں طوطے داد عیش دینے لگے
وہ گھر سے نکلے بھی نہ تھے کہ مل گئی منزل
ایک ہم ہیں کہ عمر بھر وظیفوں میں رہے
مرشد ! دعائیں چھوڑ ، ترا پول کھل گیا

0 Comments