Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

حجاب اور مسلمان

حجاب اور مسلمان

ابوزید فرضی

میں پڑھا لکھا ہوتا تو کچھ ضرور ارشاد فرماتا، "نیتا" ہوتا تو بھاشن دیتا "قائد" ہوتا تو مصلحتاً چپ رہتا، سوشل میڈیا لکھاری ہوتا تو دو چار"معجون" لکھ کر "منھ فقیری" بگھارتا پر افسوس میں ان میں سے کچھ نہیں، آپ مانیں یا نا مانیں کچھ بھی ہونے کے لئے "آزاد" ہونا شرط ہے اور آزاد وہی ہے جس کا یا تو نکاح نا ہوا ہو یا پھر وہ پچاس کی عمر کراس کرچکا ہو.

میں ابوزید فرضی ہوں، مجھے آج تک سمجھ نہیں آیا کہ"اقلیت"صرف مسلمان ہیں، یا سکھ، عیسائی، پارسی بھی اقلیت میں آتے ہیں، اگر سکھ بھی "اقلیت" میں آتے ہیں تو پھر ان کی داڑھی، پگڑی والا مسئلہ کیوں نہیں اٹھتا؟ عیسائی خواتین کے لباس پر ہنگامہ کیوں نہیں ہوتا، پارسی کی ٹوپی پر کونو جھگڑا نہیں ہوتا.

خیر چھوڑو میرا ایک پرسنل واقعہ سنو!

بات اس وقت کی ہے جب میں چھوٹا سا تھا، مطلب اتنا چھوٹا کہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ اسکول کے باہر کھڑے بندے کا خط اندر میڈم کو نہیں دینا چاہیے، دیوبند کے شری گرو رام رائے پبلک اسکول کے درجہ اول میں پڑھتا تھا، دارالعلوم دیوبند کے افریقی منزل کمرہ نمبر 18 میں قیام تھا،نہا دھوکر اسکول ڈریس پہن لیتا تھا اور سر پر ٹوپی لگالیتا تھا، عموماً اسکول بس میں ایک بڑی باجی میری ٹوپی بیگ میں رکھ دیتی تھیں اور ٹائی لگادیتی تھیں، ایک دن اتفاق سے ایسا ہوا کہ وہ نہیں آئیں اور میں بغیر ٹائی سر پر ٹوپی کے ساتھ  اسکول میں داخل ہوگیا، ابھی "دعا" کا وقت نہیں ہوا تھا، ہماری کلاس کے ایک لڑکے نے زور سے آواز لگائی "اوووئے ملے" مجھے کچھ نہیں سمجھ آیا سوائے اس کے کہ اس نے میری ٹوپی کا مذاق اڑایا ہے،میں نے اسے دوڑالیا، میدان بڑا تھا، دوڑتے ہوئے میں نے اینٹ کا ایک ٹکڑا اٹھایا اور اس کی طرف اچھال دیا، اس کی قسمت کی خرابی کہیں یا میرے نشانہ کو اچوک سیکنڈ کے ہزارویں حصہ میں اس کے سر سے خون ابل پڑا.

میں گھبرا گیا، بڑے بھائی کو بلایا گیا، وہ میرے سرپرست تھے انہوں نے معذرت نامہ لکھا، اسکول انتظامیہ نے مجھ پر جرمانہ عائد کیا، خوب ڈانٹ پڑی لیکن تاریخ گواہ ہے اس کے بعد اگر میں ٹوپی کے ساتھ داخل ہوا تو کسی کی جرآت نہیں ہوئی کہ کوئی کمنٹ پاس کرسکے.

Post a Comment

0 Comments