Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

حجاب، عبداللہ ممتاز

 حجاب


عبداللہ ممتاز


کرناٹک کے ضلع اوڑوپی کے ایک کالج میں انتظامیہ نےحجاب کے ساتھ کلاس میں بیٹھنے پر بندش لگائی،معاملہ سوشل میڈیا اور پھر میڈیا میں آیا، دیکھا دیکھی کئی کالجز نے حجاب پر بندش لگادی۔ معاملہ ہائی کورٹ گیا اور اب سپریم کورٹ بھی پہنچ چکا ہے۔ کرناٹک ہائی کورٹ میں شنوائی جاری ہے اور تب تک کے لیے کورٹ کی طرف سے بھی حجاب پر بندش لگائی گئی ہے۔

اس حوالے سے چند باتیں قابل غور ہیں۔ 

آئین کا آرٹیکل 25 ہندوستانی لوگوں کو کسی بھی مذہب کے ماننے اور اس پر عمل کرنے کی آزادی دیتا ہے بشرطے کہ اس  سے امن عامہ، اخلاق عامہ اور صحت عامہ متاثر نہ ہو۔ آئین جہاں لوگوں کو کھانے پینے، پہننے اوڑھنے اور مذہب پر عمل کرنے کی آزادی دیتا ہے وہیں تعلیمی وغیر تعلیمی اداروں کو یونیفارم طے کرنے کی بھی آزادی دیتا ہے ورنہ آزادی کے نام پر لڑکیاں بکنی پہن کر کالج آسکتی ہیں اور لڑکے لنگی پہن کر آفس جاسکتے ہیں۔ وہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ہمارے مذہب کا حصہ ہے۔ اس لیے سپریم کورٹ نے 1954ء میں اس میں اضافہ کیا تھاکہ  "مذہبی آزادی" کے تحت ؛مذہب کے جو بنیادی حصے ہیں،قانون صرف انھیں کو تحفظ دیگا، اس کے علاوہ جو ریتی رواج اور غیر ضروری حصے ہیں انھیں نظر انداز کیا جائے گا۔

حجاب امن عامہ، اخلاق عامہ اور صحت عامہ میں سے کسی کو متاثر نہیں کرتا ، اس لیے اس پر عمل کی آزادی ہونی چاہیے؛ لیکن چوں کہ  یہ آزادی اداروں کے یونیفارم طے کرنے کی آزادی سے متصادم ہے،اس لیے عدلیہ اب اس پر سماعت کرے گی کہ حجاب ایا مذہب اسلام کے بنیادی احکام میں سے ہے جس کی آزادی کو تحفظ فراہم کرنا چاہیے یا یہ دیگر رسومات مذہب کی طرح ایک رسم اور پرتھا ہے۔

ایسے موقعوں پرمیڈیا کی زبردست چالبازی یہ ہوتی ہے کہ وہ لبرلز اور ان کے مقابلے میں کچھ ٹوپی کرتا والے دھرم گروؤں کو ٹی وی پر اٹھا لاتی ہے اور ان مسائل پر ڈیبیٹ کراتی ہے۔یہ ٹوپی کرتا والے نہ صرف علم سے خالی ہوتے ہیں ؛ بلکہ عقل سے بھی کوئی خاص لینا دینا نہیں ہوتا  یا ان کا مقصد ہی اسلامی نقطہ نظر کو کمزور دکھانا ہوتا ہے۔ٹوپی کرتا والے دھرم گرو کے پاس چیخنے چلانے، تو تو میں میں کرنے اور گالیاں کھانے ( اور کئی مرتبہ دھکا مکی اور تھپڑ کھانے )کے علاوہ کوئی دلیل ہوتی ہے اور نہ ہی ان کی باتوں میں کوئی خاص لاجک۔ اس سے ناظرین کو صاف پیغام یہی جاتا ہے کہ مولی ساب کا نقطہ نظر بہت کمزور ہے اور لبرلز جو کہہ رہے ہیں وہی درست ہے۔ اس سے ٹی آر پی بڑھتی ہے سو بڑھتی ہی ہے،فیصلہ کے لیے بھی  ماحول سازگار ہوتاہے۔ ظاہر ہے ججز بھی ہمارے اور آپ کی طرح انسان ہی ہیں، وہ بھی ٹی وی شوز اور پروگرامز دیکھتے ہیں، ملک اور لوگوں کے مزاج اور ماحول کو بھانپتے ہیں اور پھر فیصلہ کردیتے ہیں۔ بابری معاملے میں کیا ہوا؟ ایک طرف مسلمان یہ کہہ رہے تھے کہ ہمیں سپریم کورٹ کا فیصلہ منظور ہوگا، دوسری طرف سنگھی اور بی جے پی کے کسی ایک فرد کی کلپ ہمیں بتا دیجیے جس میں اس نے کہا ہو کہ ہمیں سپریم کورٹ کا فیصلہ منظور ہوگا؛ انھوں نے کھل کر نہیں تو دبے لفظوں میں ضرور کہہ دیا تھا کہ اگر کورٹ ہمارے خلاف فیصلہ کرتی ہے تو ہم نہیں مانیں گے۔ کورٹ کو ٹی وی شوز سے اندازہ ہوگیا تھا کہ مسلمانوں کے خلاف فیصلہ سے کچھ خاص نہیں بگڑنے والا ہے،وہیں اگر ہندؤں کے خلاف فیصلہ ہوا تو نہ صرف وہ اس فیصلہ کو نہیں مانیں گے؛ بلکہ ملک کے اندر زبردست بھونچال آجائے گا۔ اس لیے اس اعتراف  کے ساتھ کہ "بات تو آپ کی درست ہے"بکری کے پانچ پاؤں کا فیصلہ کیا گیا۔ٹرپل طلاق کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ 

اب حجاب اور نقاب پر شوبازی کا بازار گرم ہوگیا ہے، لبرل نام نہاد مسلم خواتین کے انٹرویوز اور بحث بازی شروع ہوگئی ہے۔ ادھر پیشہ ور ڈبیٹرز اور دھرم گروؤں کے بھی   سوکھے میں بہار آگیا ہے، تھوڑے دن ان کی دکان میں مندی رہی تھی، اب پھر سے بہار لوٹ آیا ہے۔ 

خیر  کورٹ جو بھی فیصلہ کرے ہم تسلیم کرنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ بابری مسجد اور ٹرپل طلاق کے مقدمہ کو ہم نے اتنی سہولت سے مان لیا تو اسے ماننےمیں کیا حرج ہے کہ  گورنمنٹ کالج میں لڑکیاں حجاب نہیں لگاسکتیں۔ زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا، ہم دو چار مذمتی بیان دیں گے، لیٹر پیڈ پر اردو زبان میں مطالبہ شائع کریں گے اور پھر مان لیں گے کہ یا تو پردہ کے ساتھ ہماری لڑکیاں جاہل رہ جائیں یا پھر تعلیم کے چکر میں شرم وحیا اور دین اسلام کو پرے پھینک دیں۔

اصل مسئلہ تو ہمارا ہے، ہم نے اپنے عمل سے کیا ثا بت کیا ہے؟ آپ کے علم میں شاید نہ ہو کہ عدالت  ڈاڑھی کو سکھوں کے مذہب کا بنیادی حصہ تو مانتی ہے؛ لیکن مسلمانوں کے مذہب کا بنیادی حصہ نہیں مانتی۔ وجہ صاف ہے کہ سکھوں میں فیصد نکال لیجیے کہ کتنے فیصد  ڈاڑھی منڈے لوگ ملتے ہیں اور مسلمانوں کا فیصد نکال لیجیے کہ کتنے فیصد مسلمان ڈاڑھی رکھے ہوتے ہیں۔

پردے کے حوالے سے مسلمانوں میں دو قسم کے نظریے پائے جاتے ہیں۔ ایک تو لبرلز ہیں جن کے یہاں آنکھوں کا پردہ ہے ، اس کے بعد عورت کی مرضی چاہے وہ جتنی ننگی ہوجائے، انھوں نے اب تک "اکثر کشف " اور "اقل ستر"کی کوئی مقدار نہیں بتائی ہے جسے میں نقل کرسکوں، بس وہ آنکھوں کا پردہ فرمانے کو کہتے ہیں۔

دوسرا طبقہ ہندو پاک کے دارالافتاء سے تعلق رکھنے والے مفتیوں اور مخصوص  (typical)  مزاج ومذاق رکھنے والے علماء کا ہے جن کے یہاں سر کے بال سے لے کر پاؤں کے ناخن تک کا مکمل پردہ واجب ہے، صرف آنکھوں کے کھولنے کی اجازت دیتے ہیں ، بہتوں کے یہاں تو صرف ایک آنکھ کھولنے کی اجازت ہےاور اس پر بھی جالی لگانے کا حکم ہے۔

میرے علم ومطالعہ کے مطابق دونوں نظریہ افراط وتفریط کا شکار ہے، اول نظریہ تو انتہائی بوگس ہے، اس پر تو گفتگو کرنا ہی فضول ہے، ان کی تشریحات مان لی جائے کہ قرآن میں جو پردے کا حکم ہے اس سے دل یا آنکھوں کا پردہ مراد ہےتو وہ فرمانے سے عاجز نظر آتے ہیں کہ کسی دوسری آیت وروایت سے ہی جسمانی پردے کی حد متعین کردیں۔ 

دوسرے نظریہ کی مضبوط  دلیل "فتنے میں ابتلاء کا اندیشہ ہے"۔ "فتنے کا اندیشہ" اتنا موہوم لفظ ہےکہ اس کی تعریف اور حد بندی طے کرنا تقریبا ناممکن ہے۔ قرآن وسنت اور مراجع کتب فقہ کی روشنی میں معتدل رائے یہ ہے کہ "چہرہ، دونوں ہتھیلی  اور ٹخنوں تک دونوں پاؤں کے علاوہ پورے جسم کا اس طور پر چھپانا ضروری ہے جس سے جسم کے خد وخال نمایاں نہ ہو؛  البتہ چہرے اور ہتھیلی کا بھی پردہ مستحسن ہے؛ لیکن واجب نہیں"۔ جسم تو عام طور سے ڈھکا ہی ہوتا ہے؛ (بشرطیکہ لڑکی حیاباختہ نہ ہو) البتہ سینہ اور سر کو ڈھانپنے کی ایک شکل حجاب ہے، جس پر ہنگامہ بپا ہے۔  حجاب کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینے کی ضرورت ہے؛ چوں کہ اس میں کسی قسم کا کوئی حرج نہیں ۔ برقع /نقاب جیسی چیزوں پر سیکوریٹی وجوہات کی وجہ سے دنیا کے ئی ممالک نے پابندی عائد کر رکھی ہے؛ لیکن حجاب پر کسی ملک نے بندش لگائی ہو میرے علم میں نہیں ہے۔ 

ان شاء اللہ کبھی اس پر دلائل اور حوالوں کے ساتھ گفتگو ہوگی۔

Post a Comment

0 Comments