اعجاز جودھ پوری
تاریخ 18 اپریل 1921ء 5 فروری 1998ء
آج میرپورخاص کے مقتدر شاعر اعجازجودھ پوری کی تیئیس ویں برسی ہے۔ ان کا نام شہر کے بزرگ شعرا کی فہرست میں سب سے بالا سطح پر آتا ہے۔ انھیں یہ مقام ان کی بے مثل فنی مہارت، بیان کی پختگی اور قادرالکلامی کی بدولت حاصل ہوا۔ وہ فن_تاریخ گوئی کے ماہر تھے۔ وہ راجستھان، بھارت کے شہر جودھ پور میں پیدا ہوئےاور ثانوی تعلیم وہیں مکمل کی۔ ان کا نام غلام محمود اور تخلص اعجاز تھا۔ والد کا نام احمد خان تھا،جو خود بھی شاعر تھے۔ ان کی آبائی "مالانی حویلی" میں آئے دن شعروسخن کی محفلیں منعقد ہوتی رہتی تھیں۔ یہ ماحول نوجوان اعجاز کو راس آیا اور وہ بھی جلد ہی شعرگوئی کی طرف مائل ہوگئے۔ انھیں موسیقی سے بھی خصوصی لگاؤ تھا۔ زندگی پرسکون تھی۔ پھر حالات نے پلٹا کھایا اور اعجاز کو پاکستان ہجرت کرنی پڑی۔ پرانی محفلیں خواب ہوئیں اور اب زندگی کی سختیاں ان کے خاندان کی منتظر تھیں۔ انھوں نے میرپورخاص کو اپنا نیا مستقر بنایا اور معمولی ملازمت کے سہارے زندگی قناعت سے بسر کرنے کا قرینہ اپنا لیا۔ وہ جس تہذیب کے پروردا تھے، نئے حالات میں اس کا تصور بھی محال تھا۔ محرومی کا یہی کرب ان کی شاعری میں ماضی کے نوحے کی شکل میں تخلیقی سطح پر ظاہر ہوا ہے۔ان کی شاعری میں اعلا انسانی اقدار سے محبت اور عادلانہ معاشرے کی خواہش واضح نظر آتی ہے۔ اعجاز صاحب نے شاعری کی تمام اصناف میں اپنے تخلیقی جوہر دکھائے ہیں لیکن غزل سے خصوصی دلچسپی تھی۔ ان کی غزل ہماری کلاسیکی روایت سے پوری طرح مربوط ہے۔ موسیقی سے ربط نے ان کے کلام میں ایک ایسی فطری نغمگی پیدا کردی ہے، جسے قدرت کا عطیہ ہی کہا جا سکتا ہے۔ ان کا شائستہ انداز_ سخن ان کے مزاج سے گہری مطابقت رکھتا ہے۔ ان کےنفیس طرز_سخن میں ان ہی کے خلیق اطوار اور متمدن و مہذب اسلوب_ زندگی کا عکس ملتا ہے۔ ان کا ملائم لہجہ اور نشست برخاست کا ا نداز زمانےکے چلن سے بالکل مختلف تھا۔ان سے ایک ہی ملاقات میں تہذیب و شائستگی کا مفہوم آسانی سے سمجھ میں آجاتا تھا۔ ان کی ذات میں اسلاف کی شرافت کا عکس بہ آسانی دیکھا جاسکتا تھا۔ اعجاز صاحب کو ایک وضع دار انسان اور ایک مشاق ماہر_فن کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
ان کی مطبوعہ کتب کی تعداد چار ہے
• نوشتہء تاریخ (فن_تاریخ گوئی، مطبوعہ 1978)
• اعجاز_سخن (مجموعہ ء غزلیات ، مطبوعہ 1987)
• تان سین(837 اشعارکی طویل نظم ،مطبوعہ 1988)
• تخیل کا سفر (مجموعہ ء غزلیات، 1989)
ان کے علاوہ تین کتابیں ہنوز تشنہ ء انطباع ہیں
کمپیوٹر تاریخ_ مطلوبہ المعروف بہ تاریخ عندالطلب (ایک لاکھ چوالیس ہزار تاریخی مصارع کی عکاس)
° اقتباسات از مقدمہءابن_خلدون(منطوم)
° منظومات
منتخب اشعار
ہم کہ پستی میں بھی خنداں ہیں گلوں کی صورت
تم فرازوں پہ بھی روتے ہو سحابوں کی طرح
شکوہ بلب جو لوگ ہیں یہ ان سے پوچھیے
آداب عاشقی میں گلہ ہے روا کہاں
نزع کے عالم میں جب رک کر نفس آنے لگا
زندگی کی بے بسی پر خود ترس آنے لگا
جی چاہے جب بھی آئیے اور اپنے واسطے
ہر دم غریب خانہ کا در باز جانیے
اس بڑے کار زمانہ سے نبٹنے کے لیے
لوگ لے لے کر حیات مختصر آتے رہے
ان کا احسان عیادت بھی تو بیمار پہ ہے
بوجھ اور بوجھ بھی گرتی ہوئی دیوار پہ ہے
مطربہ دیکھ کہیں وہ میری شہ رگ تو نہیں
تیری انگشت حسیں ساز کے جس تار پہ ہے
عدم سے عدم تک سفر ہی سفر ہے
نہیں کوئی اعجاز اپنا ٹھکانا
گنوا کے عمر اے اعجاز سوچتا ہوں میں
طلسم خواب ہے یا زندگی فسانہ ہے
بالاتفاق جب کہ ہے دل خانہ ء خدا
پھر یہ تمام شورش دیروحرم ہے کیا
اثرانداز رنگ صحبت یاراں نہیں ہوتا
کنول بن کر بہم رہتا ہوں ترداماں نہیں ہوتا
صرف ہو بہر دیگراں ہے یہی حاصل حیات
وقف برائے خود جو ہو وہ کوئی زندگی نہیں
حیات گزرے تو اعجاز اس سلیقے سے
کبھی کسی کو بھی گنجائش_ گلہ نہ ملے
دھیرے دھیرے مدھم ہو کر گل ہونا تو شرط نہیں
بعض تو اک دم بجھ جاتے ہیں دیپک جلتے جلتے بھی
کون خود بینی کو آیا تھا مقابل اس کے
رخ پہ آئینے کے چھائی ہوئی حیرانی ہے
ان سے مل کر یہ حقیقت کھلی افسانوں کی
ہیں فرشتے بھی یہاں شکل میں انسانوں کی
گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے رہے ہیں لوگ
رنگوں کی اس دھنک سے بہلتا رہا ہوں میں
فلسفہ کیا ہے تن و روح کی یک جائی کا
میں عناصر میں ہوں یا مجھ میں عناصر ماخوذ
تہذیب و ارتقا کے اجالوں کے باوجود
ہے تیرگی جہل تمدن کے آس پاس
روتا ہوں اس طریق سے اعجاز رات دن
نم آنسوؤں سے نام کو ہوتی نہیں پلک
جو نکل جاتے ہیں اے اعجاز گلشن چھوڑ کر
وہ ہوائے گل ستاں تک کو ترس جاتے ہیں گل
بچھڑ کے رہ گئے احباب محفلیں اجڑیں
سحر کی اب ہیں نشستیں نہ شام کے جلسے
اعجاز راہ زیست میں کانٹے تھے گل کے ساتھ
گزرے جدھر سےپھونک کے رکھا قدم قدم
درندگی کبھی ملتی تھی جنگلوں میں مگر
بفیض عصر نو ملتی ہے آج شہروں میں
اک طرفہ تماشا ہے تخیل کا سفر بھی
اڑتا ہے فرازوں پہ بھی رکھتا نہیں پر بھی
شمیم و رنگ و رعنائی لطافت سب بہم کرکے
انھیں گل کہہ دیا طولانی مضموں کو کم کر کے
حسب سابق وہی دستورے جہاں ہے کہ جو تھا
سانس لینا بھی غریبوں پہ گراں ہے کہ جو تھا
چار تنکے چن کے کی تھی آشیاں سازی مگر
ایک جھونکے سے ہوا کے خانماں برباد ہوں
یہ عدم کا ہے سفر تنہا نکلنے کے لیے
ساتھ کس کے کوئی آمادہ ہے چلنے کے لیے
نذر _نسیاں ہوئیں سب گزرے دنوں کی یادیں
کوئی ساماں نہیں اب دل کے بہلنے کے لیے
وقت جاری ہے فنا کی منزل_کل کی طرف
عمر بڑھتی لمحمہ لمحمہ ہے تنزل کی طرف
فنا کے سائے پیڑوں سے پرے ہیں
تنے ہیں کھوکھلے پتے ہرے ہیں
بسی پوری طرح دنیا نہ اب تک
ہزاروں لوگ اب بھی بےگھرے ہیں
وہ لوگ ہیں باقی نہ وہ اب ان کے محاسن
وہ سیرت و کردار نہ اطوار وتیرے
سمندر میں یہ ٹھاٹھیں مارتا میلوں بھرا پانی
بہا سکتا ہے تنکے کو ڈبو سکتا نہیں ہرگز
کرکے عجب وہ تیز روی سے سفر گیا
جھپکی پلک تو حدنظر سے گزر گیا
شاعری سحر سہی لفظ و معانی کا مگر
تیری آواز کے جادو کو کہاں پہنچے گی
ساتھ اعجاز~ کے کچھ وقت گزاریں آو
پھر نشستیں یہ کہاں مردخوش اوقات کے بعد

0 Comments