Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

غالب شناس ڈاکٹر مشتاق تجاروی

 غالب شناس ڈاکٹر مشتاق تجاروی

از قلم  توصیف الحسن میواتی الہندی 

اہلِ ادب میں جب بھی کبھی شاعری کی بات چلتی ہے تو ایک نام جو خود بخود ذہن میں گردش کر جاتا ہے وہ ہے مرزا غالبؔ ۔۔! ایسا لگتا ہے کہ مرزا غالبؔ کے بغیر ہمارا اُردو ادب اِتنا ہی ادھورا و نامکمل ہے جتنا کہ تاج محل کے بغیر ہندوستان ۔۔! بات خیالات کی ندرت کی ہو یا تخیلِ اُڑان کی یا پھر جدید نثر کے موجد کی، غالبؔ ہر جگہ سرِفہرست زبان و ادب کی امامت کرتے نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ڈیڑھ سو سال کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی غالبؔ کی نہ صرف شاعری بلکہ ان کی نثر کا جادو بھی اہلِ ادب کے سر چڑھ کر بولتا ہے یعنی اہلِ ادب میں غالبؔ آج بھی اُسی ذوق و شوق کے ساتھ پڑھے اور پڑھائے جاتے ہیں جو آج سے سو ڈیڑھ سو سال پہلے پڑھے یا پڑھائے جاتے تھے ایسا لگتا ہے کہ غالبؔ کی تخلیقات کو ادبی دُنیا میں کبھی زوال نہیں۔مرزا غالب کی شخصیت اور فن گذشتہ ڈیڑھ صدی سے اہل علم کا پسندیدہ موضوع رہا ہے-غالب کی شخصیت اور ان کی شاعری پر کم و بیش دو ہزار کتابیں اور مجلات کے خصوصی نمبر شائع ہوچکے ہیں کئی ادارے ہیں جن کی خدمات کا محور مطالعات غالب ہے, اس کے باوجود غالب شناسی ایک زندہ موضوع ہے اور ابھی غالب کی شخصیت کے ایسے گوشے باقی ہیں جن پر اہل علم داد تحقیق دیتے رہتے ہیں زیر نظر کتاب "غالب اور الور"یہ کتاب ان مقالات کا مجموعہ ہے جو غالب اور الور سے متعلق ہیں اس کتاب میں تجاروی صاحب نے ان رشتوں کو تلاش کرنے کی کوشش کی ہے جو غالب اور الور کے درمیان تھے الور ریاست ماضی قریب میں ہندوستان کی اہم ریاستوں میں شمار ہوا کرتی تھی یہ ریاست اپنی علمی و ادبی سر گرمیوں اور علماء و ماہرینِ فن کی سرپرستی کے اعتبار سے منتخب ریاست ہے, خاص طور سے جب بزمِ دہلی کے اجڑ جانے کے بعد بڑی تعداد میں دہلی کے علما,فضلا, مختلف علوم و فنون کے ماہرین, شعرا, ادبا اور بہترین صلاحیتوں کے مالک لوگ الور میں جمع ہوگئے تھے اسی بنا پر- منشی ہیرا لال شہرت نے کہا تھا 

شور ہے شعر و سخن کا ہر طرف

ان دنوں الور جہاں آباد ہے 

, الور کے مہاراجوں سے غالب کا تعلق, الور میں غالب کے ممدوحین و احباب اور الور میں غالب کے تلامذہ جیسے عنوانات کے تحت تجاروی صاحب نے غالب کی زنگی کا یہ منفرد پہلو نمایاں کیا ہے اس کتاب میں ایسی تقریباً چالیس شخصیات کا تذکرہ ہے جن کا تعلق غالب سے بھی رہا ہے اور الور سے بھی ایک شہر میں غالب کے اتنے متعلقین و احباب بڑی اہم بات ہے, سید ظل الرحمٰن لیکھتے ہیں کہ "داکٹر محمد مشتاق تجاروی میوات کے ایک ذی علم محقق و مصنف ہیں, اسلامیات, تاریخ, تذکرہ اور سوانحی ادب پر ان کا مطالعہ وسیع ہے, یہ کتاب "غالب اور الور " ان کے مطالعہ کی وسعت پر شاہد عادل ہے"

محترم المقام جناب ڈاکٹر مفتی محمد مشتاق تجاروی (دہلی) کا شمار برصغیر(ہند و پاک) کے بڑےمحققین میں ہوتا ہے۔ تجاروی صاحب کی 30سےزیادہ تحقیقی کتب شائع ہو چکی ہیں،2019میں ان کی  اہم کتاب "غالب اورالور"شایع ہوئی ہوی تھی . جبکہ وہ تاریخ میوات کےکئی اہم پہلوؤں پرہنوز کام کررہے ہیں,ان کی اس سلسلہ کی دو کتابیں(1)"تاریخ تجارہ",اور(2)"تذکرہ مجاہدِمیوات مولانا محمدابراہیم خان الوری"زیرطبع ہیں.جبکہ وہ میو, میوات پرایک  موضوعاتی تحقیقی مجلہ"نیاسویرا"بھی شایع کرتےہیں, یہ رسالہ اردو اورہندی دونوں زبانوں میں بیک وقت نکلتاہے, 

_ مجھے امید ہی نہیں ، بلکہ یقین ہے کہ یہ کتاب ان کا شمار غالب کے شناوروں میں کرائے گی اور غالب پر مطالعہ و تحقیق کرنے والوں کے لیے حوالہ کا کام دے گی _

Post a Comment

0 Comments