علامہ شبلی نعمانی " الفاروق" میں بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رض نے اپنے عہد_خلافت میں صوبوں کے عامل (حاکم_اعلی' ) کے لیے کیا معیارات مقرر کیے تھے
" جب کوئی شخص کہیں عامل مقرر کیا جاتا تھا، تو حضرت عمر رض صحابہ کے ایک گروہ کے سامنے اس کو فرمان_تقرری عنایت کرتے تھے اور ان صحابہ کو گواہ مقرر کرتے تھے۔ جس سے یہ مقصد تھا کہ جو شخص مقرر کیا جاتا ہے، اس کی لیاقت اور فرائض کا اعلان ہوجائے۔
ہر عامل سے عہد لیا جاتا تھا کہ
ترکی گھوڑے پر سوار نہ ہوگا۔
باریک کپڑے نہ پہنے گا۔
چھنا ہوا آٹا نہ کھائے گا۔
دروازے پر دربان نہ رکھے گا۔
اہل_حاجت کے لیے دروازہ ہمیشہ کھلا رکھے گا۔
یہ شرطیں اکثر پروانہءتقرری میں درج کی جاتی تھیں اور ان کو مجمع_عام میں پڑھ کر سنایا جاتا تھا۔
جس وقت کوئی عامل مقرر ہوتا تھا، اس کے پاس جس قدر مال اور اسباب ہوتا تھا؛ اس کی مفصل فہرست تیار کرا کر محفوظ رکھی جاتی تھی اور اگر عامل کی مالی حالت میں غیر معمولی ترقی ہوتی تھی تو اس سے مواخذہ کیا جاتا تھا۔
تمام عمال کو حکم تھا کہ ہر سال حج کے زمانے میں حاضر ہوں۔ حج کی تقریب سے تمام اطراف کے لوگ موجود ہوتے تھے۔ حضرت عمر رض کھڑے ہوکر باعلان کہتے تھے کہ جس کسی کو کسی عامل سے کچھ شکایت ہو تو پیش کرے۔ چناں چہ زرا زرا سی شکایتیں پیش ہوتی تھیں اور تحقیقات ہو کر ان کا تدارک کیا جاتا تھا۔ "
اقتباس از " الفاروق" مولف : علامہ شبلی نعمانی۔ ( صفحہ نمبر 300 تا 302 )۔ ناشر : مدینہ پبلشنگ کمپنی، کراچی، اشاعت 1970ء

0 Comments